Thursday , June 21 2018
Home / ادبی ڈائری / مومن خاں شوقؔ کی تخلیقی جہات

مومن خاں شوقؔ کی تخلیقی جہات

پروفیسر میر تراب علی، حیدرآباد

پروفیسر میر تراب علی، حیدرآباد
اردو کے مشہور جمالیاتی نقاد ڈاکٹر شکیل الرحمن نے بجا طور پر لکھا ہے ۔ کسی بھی شہر کی داخلی سائیکی (inner psyche) وہاں کی تہذیب و ثقافت سے ہی تشکیل پاتی ہے اور تہذیب ، ثقافت میں تنوع یا نہ ہوتو پھر شہر کا داخلی وجود بھی ساکن اور منجمد ہوجاتا ہے ۔ شہر کے تحرک کی لہریں تاریخ و ثقافت سے ہی موجزن ہوتی ہیں ۔ حیدرآباد کی ثقافت ، تہذیب اور ادب کو جن ادیبوں اور شاعروں نے تحرک ، توانائی اور تمکنت عطا کی ہے ان میں ایک باوقار نام مومن خان شوقؔ کا بھی ہے ۔
مومن خان شوقؔ حیدرآباد کے بزرگ شاعر اور مجاہد اردو ہیں ۔ انہوں نے اپنی عمر عزیز کا ایک بڑا حصہ اس دشت کی سیاحی میں گذارا ہے ۔ ان کا تعلق حیدرآباد کے ایک مہذب علمی ادبی اور مذہبی گھرانے سے رہا ہے ۔ ان کے خاندان کے ادبی ماحول اور حیدرآباد کی شاعرانہ فضا نے ان کو شاعری کے آسمان پر پرواز کا ہنر بخش ۔ ابتداء میں کئی نامور اساتذہ سخن سے اصلاح لی اور بہت جلد حیدرآباد کے شعری منظر نامے میں محترم شاعر کی حیثیت سے منظر عام پر آئے ۔ شوقؔ صاحب دراصل حیدرآباد کی تہذیب کی جمالیات کا تسلسل ہیں ۔ فرماتے ہیں ۔

یہ دکن کی سرزمیں کا سب سے روشن وصف ہے
جو بھی آتا ہے یہاں ، وہ لوٹ کر جاتا نہیں
ڈاکٹر بانو طاہرہ سعید نے مومن خاں شوقؔ کا بڑا خوب صورت سراپا کھینچا ہے ۔
’’ مومن خان شوقؔ اسم بامسمیٰ ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں ۔ مرد مومن بھی ہیں اور شوق و ذوقِ شعر و ادب سے بھی سرشار ہیں ۔ قلمے ، قدمے ، درمے ، ہر لحاظ سے شوقؔ نے اردو کو فروغ دیا ہے ۔ نہ شہرت کی تمنا نہ صلے کی پرواہ مزاج قلندرانہ ۔ سینے میں دل بے نیاز ۔ اپنی ہی دھن میں مگن ، فنکاروں کی قدردانی اور ہمت افزائی ان کا محبوب مشغلہ ۔ نہ کسی سے رقابت ۔ سب سے رفاقت محبت اور طرز گفتگو، میں ملنساری ۔ شگفتگی ، دلنوازی ، اپنی رہائش گاہ میں ایک انجمن بنائی ہے ، بنام سوغات نظر ،اس میں ہر ماہ ادبی و شعری نشست منعقد ہوتی ہے ۔ اپنے بارے میں شوق صاحب فرماتے ہیں ۔
مروت ، سادگی ، اخلاص و الفت
ہماری زندگی میں اور کیا ہے
مومن خان شوقؔ نے کئی اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی لیکن غزل میں اُن کی ادراکی قوتِتخلیق بھرپور سانس لیتی ہے ۔ غزل کا فن جگر سوزی اور جان کا ہی کا ہے ۔ اس فن کی آبیاری میں وہی لوگ شاد کام ہوتے ہیں جو فن کی نزاکت کے ساتھ شرافت، وضعداری اور ثقافت کے پاکیزہ اقدار کے علمبردار ہوتے ہیں ۔

ادب اور زندگی میں اگر کسی چیز کو بقائے دوام حاصل ہے تو وہ حسنِ کردار ہے ،جسے ادب میں شخصیت کہنا بجا ہے ۔ شخصیت ماحول سے بنتی ہے اور پھر ماحول کو بناتی ہے ۔ بقول کسی دانشور کے ’’ ادب دراصل شخصیت کا اظہار ہے ۔ واضح رہے کہ ادب میں شخصیت سے گریز ممکن نہیں ،البتہ شخصیت ایک خاص حقیقت ہے اور ادب کی حقیقت عمومی ہے ۔ ادب شخصیت کی آب و تاب کو سمٹتا ہوا زندگی سیل رواں سے گذرتا ہے جبکہ شخصیت اپنی تمام تر رعنائیوں ، آگاہیوں کے ساتھ انسان اور انسانیت کو سنوارنے کیلئے اس کے ماضی ، حال اور مستقبل کو آواز دیتی ہے‘‘۔ مومن خاں شوقؔ ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے کھلی آنکھوں سے گرد و پیش کا مشاہدہ اور گہرائی سے زمینی حقیقتوں کا مطالعہ کیا ہے ۔ شرف انسانیت جن اقدار سے عبارت ہے اس کی پاسداری کی تلقین و ترغیب کی ہر جگہ فراوانی ہے ۔ ظلم و ستم اور جبر و استحصال کے خلاف ان کی شاعری میں ایک نہایت توانا اور موثر آواز سنائی دیتی ہے ۔ ان کی شاعری دراصل اُس انسانیت نواز انسان کی شاعری ہے جو زندگی کی ساری الائشوں آلودگیوں میں گھرا رہنے کے باوجود اپنی شناخت نہیں کھوتا ۔ یہ تہذیبی متانت اور احترام آدمیت ان کا زاوئیہ نظر کی دین ہے ۔ ان کا انداز ملاحظہ فرمائیے ۔
جب بھی نشاط غم سے ہو اپنا سامنا
پلکوں پہ قطرہ قطرہ الم رولنے لگا
وفاؤں سے رواداری سے ، دلداری سے ، اُلفت سے
ہم اپنے دشمن جاں کو ،رفیق جاں بنالیں گے
غزل کے بارے میں مشہور شاعر جاں نثار اختر نے کہا ہے ۔
ہم سے پوچھوکہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا
چند لفظوں میں کوئی آگ چھپادی جائے
مومن خان شوقؔ نے غزل میں آگ تو نہیں بھری جس کی طرف جاں نثار نے اشارہ کیا ہے، لیکن اس کی ظاہری تراش خراش پر قابل قدر توجہ دی ہے، جس میں ہلکی ہلکی آنچ ہے جس نے اُسے نکھار بخشا ہے ۔ وہ طہارت افکار و پاکیزگی کے قائل ہیں ۔ ان کے یہاں برگ گل کی نزاکت، لفظوں کی تازہ کاری اور معانی کی بلندی ہے جس سے ان کی غزل کا ایسا روپ ابھرتا ہے جو دامن نظر کو کھینچتا ہے ۔ بقول پروفیسر سیدہ جعفر ’’ غزل کی کامیابی کا راز الفاظ کی خوبصورتی یا طرز اظہار کی لطافت اور رعنائی کی رہین منت نہیں ہوتی بلکہ اس کی ’ آب و تاب ‘ معنی کے طلسم کی بھی آفریدہ ہوتی ہے ‘‘ ۔ چند اشعار پیش ہیں۔
یہ کیسا دور ہے کیسا جہاں ہے
جسے دیکھو امیر کارواں ہے
مسئلہ کوئی بھی ہو ، سنجیدگی درکار ہے
شدت جذبات میں بہنا کبھی اچھا نہیں
جسم اور چہرے الگ
آگہی کے شہر میں

غزل کا فن دراصل اختصار کا فن ہے ۔ اس میں فنکار اپنے موئے قلم کی چند جنبشوں سے ہی پوری تصویر اجاگر کردیتا ہے ۔ ایجاز و ابہام اس میں کمال فن کی معراج سمجھا جاتا ہے ۔ شوقؔ صاحب کو غزل کا فن برتنے کا سلیقہ آتا ہے ۔ بقول ڈاکٹر شاذ تمکنت ’’ مومن خاں شوقؔ کی شاعری کے مطالعہ نے جس وصف سے آشنا کیا وہ ان کی ایجاز نگاری و اختصار پسندی ہے ‘‘۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔
تصویر وفا تم ہو
یا میری دعا تم ہو
لفظوں کے رنگیں پیراہن
احساس ، نغمہ ، سرخوشی، محبت ، بھائی چارہ ، پیار الفت ، کتابوں میں لکھی اک داستاں ہے ۔
مومن خاں شوقؔ کی شاعری کا یہ ایک رخ ہے جہاں بزرگوں کی تعظیم اور ادب کو اولین درجہ حاصل ہے اور ہر بزرگ محبت و شفقت کا پیکر ہوتا ہے لیکن اس مادی اور صارفی دور میں عمارتیں تو باقی ہیں ان کے مکین بھی باقی رہے لیکن رویوں میں اس تیزی سے تبدیلی آئی اور زندگی کی شکست و ریخت کا پودا اس تیزی سے سر اٹھانے لگا جہاں بااخلاق ، بے غرض اور بے لوث ا فراد مشکل سے نظر آنے لگے ۔ معاشرتی اقدار کا زوال ، بدلے ہوئے انداز سے ظلم ، استحصال ، مفاد پرستی ، مادیت پسندی ، گھٹن ، کرب اور بے یقینی سے بھرے حالات کو ہر اچھے اور سچے شاعر نے رد کیا ہے ۔ شوق صاحب کی نظموں میں بھی ایسے ہی احساسات اور جذبات کا اظہار ملے گا جن میں بطور خاص ’’ یہ موسم ‘‘ اک تری آرزو نہیں بدلی ‘‘ اور ’’ احساس کی خوشبو ‘‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔

ان کی ایک مختصر نظم ملاحظہ فرمائے ۔
پتھروں کی بستی میں
چپ رہو تو بہتر ہے
کچھ اگر کہو گے تم!
حرف لوٹ آئیں گے
چوٹ دے کے جائیں گے
ان کے غزلیہ اشعار کا انداز دیکھئے
ہم بھلا کس سے ملاقات کی خواہش کرتے
اپنے ہی شہر میں ہر شحص تھا تنہا تنہا
جس طرف بھی دیکھئے ملتی ہے گھٹن ذہنوں کی
ایسے ماحول میں رہنے سے بھلا فائدہ کیا
نہ جانے موسمِ گل میں چلی ہے کیسی ہوا
مرے ہی دوست کے ہاتھوں میں آج خنجر ہے
شوقؔ صاحب نے کئی خوبصورت قطعات بھی لکھے ہیں۔
ایک قطعہ پیش ہے

نگاہ و دل کا فاصلہ وہ اِس طرح گھٹا گیا
نظر سے جب ملی نظر وہ راز دل سنا گیا
بجھے چراغ جل گئے کہ چاندنی سی کھل اٹھی
وہ مسکراہٹوں کے پھول چارسو کھلا گیا
شوقؔ صاحب اردو تہذیب اور حیدرآبادی شرافت کی روشن مثال ہیں۔ گذشتہ نصف صدی سے انہوں نے اردو زبان و ادب کو اپنے خون جگر سے سینچا ہے ۔ ایک مجاہد اردو کی حیثیت سے ان کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں ۔ ان پر کرشن بہاری نور کا یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے ۔
اپنی ہر سانس میں احساں لئے ہمدردوں کا
زندگی جیتا ہوں اس دور میں اردو کی طرح

TOPPOPULARRECENT