Tuesday , December 19 2017
Home / شہر کی خبریں / موٹر گاڑیوں کی خرید و فروخت اور رجسٹریشن پر آدھار لازمی

موٹر گاڑیوں کی خرید و فروخت اور رجسٹریشن پر آدھار لازمی

بغیر آدھار ، رجسٹریشن کی مسدودی ، وزیر ٹرانسپورٹ کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پی مہیندر ریڈی نے گاڑیوں کے رجسٹریشن اور خرید و فروخت کے لیے آدھار کارڈ کو لازمی قرار ہے ۔ آدھار کارڈ کے بغیر گاڑیوں کے رجسٹریشن نہ کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے ۔ آج سکریٹریٹ کے ڈی بلاک میں وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی نے محکمہ ٹرانسپورٹ اور محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کا جائزہ اجلاس طلب کیا ۔ گاڑیوں کی فروختگی کے دوران مالکین کے حقوق سے متعلق پائے جانے والے مسائل پر غور و خوض کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں موجود تقریبا 95 لاکھ گاڑیوں میں بیشتر گاڑیاں 2 یا 3 مرتبہ فروخت کردہ گاڑیاں ہیں فروختگی کے موقع پر خریداروں کی جانب سے نام اور پتہ کی عدم تبدیلی سے حادثات کے موقع پر کئی دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔ انشورنس کا فائدہ حاصل کرنے سے محروم ہورہے ہیں ۔ حادثات کرنے والے کوئی ہے تو کسی اور کو جرمانہ ادا کرنے کی نوبت آرہی ہے ۔ اس کے علاوہ آٹوز ، لاریوں کے معاملے میں کسی کو فینانس دیا جارہا ہے تو جرمانہ کے لیے کوئی اور ذمہ دار ہورہے ہیں۔ گاڑیوں کی خرید و فروخت سرکاری طور پر انجام نہیں دی جارہی ہے ۔ جس سے کئی مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے موجودہ قوانین میں ترمیم کرنے پر زور دیا ۔ گاڑیوں کی خرید و فروخت میں آدھار کارڈ کو لازمی قرار دینے کے احکامات جاری کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ۔ اس سلسلے میں خصوصی شعور بیداری مہم چلانے کا بھی مشورہ دیا ۔ گاڑیاں فروخت کرنے والوں کی جانب سے اپنے نام کی عدم منتقلی پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں ۔ انشورنس نہ ملنے کے بارے میں معلومات فراہم کریں ۔ گاڑیوں کی تفصیلات پولیس کے ای چالان کے طرز پر محکمہ ٹرانسپورٹ کے ویب سائیٹ پر درج کرنے کو بھی لازمی قرار دینے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کی جانب سے شروع کردہ ایم ویالٹ ملک کے لیے مثالی نمونہ بن جانے کا دعویٰ کیا جس سے 20 لاکھ افراد استفادہ کررہے ہیں ۔ پوائنٹ سسٹم میں پائی جانے والی دشواریوں کو بھی فوری حل کرنے کی ہدایت دی ۔ تلنگانہ کو حادثات سے پاک ریاست بنانے کے لیے ایک دوسرے کے تعاون سے کام کرنے کا محکمہ ٹرانسپورٹ اور محکمہ پولیس کے عہدیداروں کو مشورہ دیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT