Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / موگابے دور کے خاتمہ پر لاکھوں مسرت سے سرشارافراد کا جلوس

موگابے دور کے خاتمہ پر لاکھوں مسرت سے سرشارافراد کا جلوس

People march past an armoured personnel carrier towards the State House during a demonstration demanding the resignation of Zimbabwe's president on November 18, 2017 in Harare. Zimbabwe was set for more political turmoil November 18 with protests planned as veterans of the independence war, activists and ruling party leaders called publicly for President Robert Mugabe to be forced from office. / AFP PHOTO / -

استعفی کیلئے صدر زمبابوے پر فوجی جنرلس کے دباؤ میں اضافہ ‘ باہمی مذاکرات ‘ موگابے کی اقتدار سے علحدگی یقینی

ہرارے۔19نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) زمبابوے کی فوج کے جنرلس نے آج صدر رابرٹ موگابے پر استعفیٰ دینے کیلئے اپنے دباؤ میں شدت پیدا کردی جب کہ لاکھوں پُرمسرت احتجاجی عوام نے 37سالہ موگابے دور اقتدار کے خاتمہ کا جشن منایا ۔ موگابے اب بھی اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں ‘ حالانکہ جاریہ ہفتہ فوج نے 93سالہ صدر کی جانشینی کے بارے میں تنازعہ کے بعد اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا ۔ وہ دنیا کے سب سے عمررسیدہ سربراہ حکومت ہیں ۔ موگابے اس وقت تک اقتدار پر برقرار ہیں جب کہ نئے چہرے اپوزیشن کی جانب سے فوجی جنرلس میں سے پیش کئے جارہے ہیں ۔ زمبابوے کے عوام اور ان کی ایک دور میں وفادار پارٹی بھی موگابے پر اقتدار سے علحدگی کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے ۔ صدر رابرٹ موگابے زمبابوے کی افواج کے سربراہوں سے کل ملاقات کریں گے ۔ سرکاری ٹی وی نے کل ( گذرا ہوا ) اس بات کا اعلان کیا تھا ۔ عوام کا جوش و خروش قابل دید ہے ۔ آزآدی کے بعد ان کا یہ جوش و خروش پہلی بار دوبارہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ زمبابوے 1980ء میں آزاد ہوا تھا ۔ عوام کا زبردست ہجوم جلوس کی شکل میں ہرارے اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر جلوس کی شکل میں نکل آیا تھا ۔ وہ گیت گارہے تھے اور موگابے کی آمرانہ حکومت کے خاتمہ کا جشن منارہے تھے ۔ یہ واقعہ ایک تاریخی ہفتہ کے بعد پیش آیا جس میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا اور موگابے کو ان کے گھر پر نظربند کردیا تھا ۔ موگابے کی 52سالہ بیوی گریس نے اُن کا جانشین بننے کے مطالبہ میں شدت پیدا کردی ہے ۔ کل عوام کا اجتماع پُرامن رہا ‘ حالانکہ فوجیوں نے احتجاجیوں کو موگابے کی سرکاری قیام گاہ تک پہنچنے سے روک دیا تھا ۔احتجاجی جنگ آزادی کے نامور سورما کی جانب سے طلب کئے گئے تھے ۔ جلوس میں ہر عمر کے شہری شامل تھے اور وہ موگابے سے ان کے استعفی ٰ دینے کا مطالبہ کرتے نظر آرہے تھے ۔ میجر جنرل سیبوسیسو مویو نے احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں منظم باقاعدہ اور متحد قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ موگابے کا دور اقتدار پُرتشدد ‘ جارحانہ ‘ معاشی انحطاط اور بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ ہوجانے کا دور تھا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT