Thursday , June 21 2018
Home / سیاسیات / موگا واقعہ پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ ، کارروائی متاثر

موگا واقعہ پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ ، کارروائی متاثر

نئی دہلی 5 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) پنجاب کے ضلع موگا میں ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ دست درازی اور اس کی موت کے مسئلہ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ آرائی ہوئی جبکہ اپوزیشن نے اس مسئلہ پر مباحث کا مطالبہ کیا ۔ راجیہ سبھا میں اس مسئلہ پر کارروائی دو مرتبہ ملتوی کرنی پڑی ۔ آج صبح جیسے ہی راجیہ سبھا کی کارروائی کا آغاز ہوا کانگریس کے ار

نئی دہلی 5 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) پنجاب کے ضلع موگا میں ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ دست درازی اور اس کی موت کے مسئلہ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ آرائی ہوئی جبکہ اپوزیشن نے اس مسئلہ پر مباحث کا مطالبہ کیا ۔ راجیہ سبھا میں اس مسئلہ پر کارروائی دو مرتبہ ملتوی کرنی پڑی ۔ آج صبح جیسے ہی راجیہ سبھا کی کارروائی کا آغاز ہوا کانگریس کے ارکان نے یہ مسئلہ اٹھایا ۔ امبیکا سونی نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں لا اینڈ آرڈر پوری طرح ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے جس کے نتیجہ میں مرکز کی مداخلت ضروری ہے ۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ یہ بہت سنگین مسئلہ ہے کیونکہ ریاست میں جو حکمرانی کر رہے ہیں بس انہیں کی ملکیت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے صرف انہیں کے خلاف کارروائی کی ہے جو دست درازی میں ملوث ہیں ۔ بس کے مالکین کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بس مالکین کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جاتا اس وقت تک مقدمہ مکمل نہیں ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں برہمی ہے ۔ گاؤں کے عوام نے نعش کی آخری رسومات تین دن تک ادا نہیں کیں۔ ریاست میں پائی جانے والی برہمی کو دیکھتے ہوئے بس کے مالکین کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہئے ۔ لوک سبھا میں کانگریس ارکان نے موگا واقعہ کو اٹھایا اور ایوان کی کارروائی کو روک دیا جس کے نتیجہ میں کئی مرتبہ کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا ۔ ایوان میں اس وقت گڑبڑ دیکھی گئی جب کانگریس کے رکن امریندر نسگھ نے موگا میں نوجوان لڑکی کی موت کا مسئلہ اٹھایا اور الزام عائد کیا کہ اس لڑکی کے ساتھ دست درازی کرنے کے بعد اسے چلتی ہوئی بس سے باہر پھینک دیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ بس پنجاب میں برسر اقتدار خاندان سے تعلق رکھتی ہے ۔ امریندر سنگھ نے کہا کہ پنجاب میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ آربٹ کمپنی کی بسیں کسی تنازعہ میں ہیں۔ شرومنی اکالی دل کے ارکان کے احتجاج کے دوران امریندر سنگھ نے کہا کہ یہ واقعہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی ابتری کو ظاہر کرتا ہے ۔ راجیہ سبھا میں دوسری جماعتوں بشمول بائیں بازو نے پنجاب میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے ساتھ احتجاج کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں خاطیوں کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ ریاست میں خواتین کی جان و مال کا کوئی تحفظ نہیں ہے ۔ وہاں صدر راج نافذ کیا جانا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT