Tuesday , February 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مویشیوں کی تقسیم اور مچھلیوں کی فراہمی سے پسماندہ طبقات کی ترقی نہیں ہوگی

مویشیوں کی تقسیم اور مچھلیوں کی فراہمی سے پسماندہ طبقات کی ترقی نہیں ہوگی

کونسل میں محمد علی شبیر کے بیان پر قائد اپوزیشن اور ٹی سرینواس یادو وزیر افزائش مویشیاں کے درمیان نوک جھونک
حیدرآباد۔ 13 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں آج قائد اپوزیشن محمد علی شبیر اور وزیر افزائش مویشیاں سرینواس یادو کے درمیان تیکھی نوک جھونک اور لفظی تکرار ہوئی۔ قائد اپوزیشن نے ایک مرحلہ پر یہ کہتے ہوئے ایوان کو حیرت میں ڈال دیا کہ وہ تلگو دیشم سے انحراف کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت میں شامل ہونے والے شخص سے جواب سننا پسند نہیں کرتے۔ ایک ایسا وزیر جو سیاسی انحراف کا مرتکب ہوا ہے، وہ آج کے سی آر کی مداح سرائی میں مصروف ہے جبکہ تلگو دیشم میں رہ کر انہوں نے کے سی آر کے بارے میں جو الفاظ ادا کئے تھے، وہ آج بھی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ محمد علی شبیر نے جب یہ ریمارک کیا تو ٹی آر ایس کے ارکان نے بھی خاموشی اختیار کرلی اور وہ سرینواس یادو کی کھل کر تائید سے گریز کرتے دیکھے گئے۔ محمد علی شبیر نے کابینہ میں پسماندہ طبقات کو نظرانداز کرنے کیلئے اعداد و شمار پیش کئے اور سرینواس یادو اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ افزائش مویشیاں کے مسئلہ پر مختصر مباحث کے دوران اس وقت ماحول گرم ہوا جب محمد علی شبیر نے کہا کہ 20 طبقات کے 12 فیڈریشنس ہیں لیکن گزشتہ تین برسوں میں انہیں نظرانداز کردیا گیا۔ حکومت کی جانب سے بی سی فیڈریشنوں کو فنڈس کی اجرائی روک دی گئی ہے، کیا بی سی طبقات کے ساتھ حکومت کا یہی انصاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سابق میں افزائش مویشیوں کے وزیر رہ چکے ہیں اور انہوں نے پوچم پاڈ پراجیکٹ اور دیگر علاقوں میں مچھلیوں کو چھوڑا تھا۔ ریاستی وزیر ٹی سرینواس یادو نے کچھ اس طرح جواب دیا کہ 1947ء میں ملک آزاد ہوا لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد بی سی طبقات کو آزادی ملی ہے۔ قائد اپوزیشن محمد علی شبیر اس کا جواب دینے کیلئے اُٹھے تب گورنمنٹ چیف وہپ وی سدھاکر ریڈی نے مداخلت کی اور اعتراض جتایا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جب کبھی پسماندہ طبقات کا مسئلہ آتا ہے تو اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے والے سدھاکر ریڈی مداخلت کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر سدھاکر ریڈی کو پسماندہ طبقات سے بغض کیوں ہیں۔ اس ریمارک پر ٹی آر ایس کے کئی ارکان نے نشستوں سے کھڑے ہوکر اعتراض جتایا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مویشیوں کی تقسیم اور مچھلیاں حوالے کرنے سے بی سی طبقہ کی ترقی ممکن نہیں۔ تلنگانہ کی کابینہ میں بی سی طبقات کی نمائندگی صرف 4 ہے جبکہ چیف منسٹر بلند بانگ دعوے کرتے ہیں کہ تلنگانہ میں 90% آبادی کمزور طبقات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 90% کیلئے کابینہ میں صرف 7 وزراء کی نمائندگی دی گئی۔ بی سی 4 اور ایس سی ، ایس ٹی اور اقلیت سے ایک ایک کو شامل کیا گیا جبکہ 9% اعلیٰ طبقات کیلئے 11 وزراء شامل کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کئی چیف منسٹر، گورنر اور مرکزی وزراء بی سی طبقات سے نامزد کئے تھے۔ وزیر افزائش مویشیاں سرینواس یادو نے مداخلت کی اور کانگریس کی جانب سے بی سی طبقات کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ سیاسی انحراف کرنے والے وزیر سے جواب سننا وہ پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ سرینواس یادو کیلئے اقدار کی بات کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ ایک پارٹی سے جیت کر وہ دوسری پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں اور وزیر بنادیئے گئے۔ تلگو دیشم میں رہ کر کے سی آر کے بارے میں جو کچھ کہا تھا ، اسے یاد کرلیں۔

TOPPOPULARRECENT