Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / مٹھی بھر افراد کی بناء پوری مسلم برادری مشکوک نہیں ہوسکتی

مٹھی بھر افراد کی بناء پوری مسلم برادری مشکوک نہیں ہوسکتی

داعش میں بعض نوجوانوں کی شمولیت کی اطلاعات پر چیف منسٹر کیرالا کا بیان
ترونتھاپورم۔11جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ان اطلاعات پر کہ بعض کیرالا کے باشندوں نے عسکریت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت اختیار کرلی ہے، چیف منسٹر کیرالا پینارائی وجین نے آج اسمبلی میں کہا ہے کہ ریاست کے 21 افراد لاپتہ ہوگئے ہیں قبل ازیں ایوان میں اپوزیشن لیڈر رمیش چنتالہ نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا جس کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ کسرا گڈ سے 17 اور پالکھڈ سے 4 افراد لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندی اور دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ جبکہ کسرا گڈ سے لاپتہ افراد میں 4 خواتین ، 3 بجے اور پالکھڈ سے لاپتہ افراد میں 2 خواتین شامل ہیں۔ مسٹر وجین نے بتایا کہ یہ لوگ مختلف وجوہات پیش کرتے ہوئے اپنے مکانات چھوڑ گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق لاپتہ افراد شام اور افغانستان روانہ ہوگئے ہیں جہاں پر آئی ایس آئی ایس کی تربیتی کیمپ چلائے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے حوالہ سے چیف منسٹر نے کہا کہ کسراگڈ کا ایک نوجوان فیروز کو اتوار کے دن ممبئی ایرپورٹ سے گرفتار کرلیا گیا ہے اور ہم کسی کو بھی صورتحال کے استحصال کی اجازت نہیں دیں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے مرکزی اداروں کے تعاون سے ریاستی حکومت ضروری اقدامات کرے گی اور ریاستی حکومت، کسی بھی نوعیت کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کے عہد پر کاربند ہے۔ انہوں نے یہ واضح کردیا کہ حکومت، کسی بھی مفاد حاصلہ کو صورتحال کے استعمال کی اجازت نہیں دے گی کیوں کہ اس واقعہ کے بعد پوری مسلم برادری شک کے دائرہ میں گھر گئی ہے۔ لیکن بات اظہرمن الشمس ہے کہ کیرالا کے اکثریتی عوام کسی بھی شکل میں دہشت گردی اور شدت پسندوں کے خلاف ہیں تاہم چند مٹھی بھر افراد ہی شدت پسندانہ رجحانات کا مظاہرہ کررہے ہیں جبکہ اپوزیش نے حکومت سے اس مسئلہ پر وضاحت کا مطالبہ کیا۔ مسٹر رمیش چنتالہ (کانگریس) نے کہا کہ بعض نوجوانوں کے آئی ایس (داعش) سے تعلقات کی میڈیا رپورٹ پر کیرالا خوف و دہشت کی گرفت میں ہے۔ لیکن اس خصوص میں کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی اور خوف و دہشت کے ازالہ کے لئے ریاستی حکومت کو وضاحت کرنی چاہئے۔ بی جے پی رکن اسمبلی او راج گوپال نے ایوان کے علم میں یہ بات لائی کہ ان کے حلقہ سے وابستہ سالِ آخر کی ڈینٹل اسٹوڈنٹ (بی ڈی ایس طالبہ) بھی لاپتہ ہوگئی ہے۔ سی پی ایم کے رکن اسمبلی ایم راجگوپال نے کسراگڈ کے رکن پارلیمنٹ پی کروناکرن کے ساتھ دو یوم قبل چیف منسٹر کے علم میں یہ واقعہ لایا تھا اور بتایا تھا کہ ان کے حلقہ سے لاپتہ بیشتر افراد انتہائی تعلیمیافتہ اور ماہرین ٹکنالوجی ہیں اور ان کے افراد خاندان انہیں دستیاب اطلاعات مرکزی اور ریاستی حکومت کو فراہم کرنے پر آمادہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT