Sunday , December 17 2017
Home / کھیل کی خبریں / مچل اسٹارک ہندوستان میں گیند کو سوئنگ کروانے کے خواہاں

مچل اسٹارک ہندوستان میں گیند کو سوئنگ کروانے کے خواہاں

آسٹریلیائی بولر ایس جی کی گیند سے دوبئی کے کیمپ میں خود کو ہم آہنگ کرنے میں مصروف

دوبئی 12 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) چار ٹسٹ میچس کے دورہ میں ہندوستان سے پیش آنے والے چیلنجس سے واقف آسٹریلیا کے فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ ہندوستان کے اسپین کیلئے سازگار حالات میں ایس جی گیند کو سوئنگ کروانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ وہ روایتی اور ریورس دونوں طرح کی سوئنگ کروانے کی خواہاں ہیں۔ ٹسٹ میچس میں ہندوستان اپنے گھر میں ایس جی کی گیند استعمال کرتا ہے جبکہ آسٹریلیا کے بشمول بیشتر ممالک میں کوکا بورا گیند استعمال کی جاتی ہے ۔ مچل اسٹارک ہندوستان کے دورہ سے قبل دوبئی میں جاری کیمپ میں اس گیند سے خود کو ہم آہنگ کرنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ آسٹریلیائی ٹیم کے دوستانہ مقابلہ کے بعد اسٹارک نے کہا کہ وہ سرخ گیند سے کھیل چکے ہیں حالانکہ ہندوستان میں ایسا کھیلتے ہوئے انہیں چار سال ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں یہ گیند مختلف ہوتی ہے ۔ وہاں اس کی وجہ سے چیلنجس بھی مختلف ہوسکتے ہیں ایسے میں وہاں وہ کوشش کرینگے کہ نئی گیند سے سوئنگ کرواسکیں۔ آسٹریلیائی ٹیم میں اس بات پر تبادلہ خیال ہو رہا ہے کہ 23 فبروری سے پونے میں شروع ہونے والی ٹسٹ سیریز میں مچل اسٹارک اور ان کے ساتھی فاسٹ بولر جوش ہیزل ووڈ کو کس طرح استعمال کیا جائے ۔ 27 سالہ مچل اسٹارک نے تاہم کہا کہ انہیں امید ہے کہ کپتان اسٹیو اسمتھ انہیں مختصر اور موثر اسپیلس میں استعمال کرینگے تاکہ ہندوستانی بلے بازوں کے خلاف وہ زیادہ صلاحیت کا مظاہرہ کرسکیں۔ آسٹریلیا کے سست رفتار بولرس کی کارکردگی سے اسٹارک کا بولنگ دورانیہ متاثر ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اسپنرس پر اس بات کا انحصار ہے ۔ اگر وہ وکٹس لیتے ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد فیصلہ کرنا اسمتھ کا کام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ گیند کس طرح کا رد عمل ظاہر کرتی ہے ۔ یہ گیند روایتی طور پر یا ریورس سوئنگ کرتی ہے یا نہیں۔ انہیں یقین ہے کہ حالات کے حساب سے کسی اسپیل میں انہیں ایک آدھ اوور اضافی کرنا پڑسکتا ہے لیکن زیادہ امکان یہ ہے کہ چھوٹے اسپیلس میں انہیں استعمال کیا جائیگا ۔ اسٹارک 2013 میں ہندوستان میں کھیل چکے ہیں۔ پہلے ٹسٹ میں چینائی میں انہیں کوئی وکٹ نہیں مل سکی تھی اور دوسرے ٹسٹ میں انہیں ڈراپ کردیا گیا تھا ۔ حالانکہ تیسرے گیم میں انہیں موقع دیا گیا تھا جس میں انہوں نے دو وکٹس لئے تھے ۔ چوتھے ٹسٹ میں وہ زخمی ہونے کی وجہ سے کھیل نہیں سکے اور یہ سیریز آسٹریلیا 4 – 0 سے ہار گئی تھی ۔ اسٹارک اس ساری سیریز میں صرف دو وکٹس لے کر واپس ہوگئے تھے ۔ اس کے باوجود انہوں نہ سری لنکا کے دورہ میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی حالانکہ وہاں بھی ان کی ٹیم کو 3 – 0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس سیریز میں اسٹارک نے 24 وکٹس لئے تھے جبکہ ایک سیریز میں سب سے زیادہ 23 وکٹس لینے کا ریکارڈ اس وقت تک ڈینس للی کے نام تھا ۔ اس سیریز میں انہوں نے سر رچرڈ ہیڈلی کا سری لنکا کے خلاف 23 وکٹس لینے کا ریکارڈ بھی توڑ دیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT