Saturday , November 25 2017
Home / خواتین کا صفحہ / مچھر کے کاٹنے سے کھجلی کیوں ہوتی ہے ؟

مچھر کے کاٹنے سے کھجلی کیوں ہوتی ہے ؟

بچو! مچھر یوں تو کہنے کو بہت چھوٹا سا کیڑا ہے لیکن اس چھوٹے سے کیڑے میں اتنی صلاحیت ہوتی ہے کہ انسان اور جانوروں کو کاٹ کر خطرناک قسم کی بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مچھر کے جسم کے ساتھ مختلف بیماریوں کے جراثیم بھی ہوتے ہیں جوکہ ملیریا ، یرقان وغیرہ کا سبب بنتے ہیں۔
مچھر کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ نر مچھر کسی کو نہیں کاٹتا، کاٹنے کی ساری کارروائی مادہ مچھر کرتی ہے اور ان مادہ مچھرو ںکی بھی چند خاص اقسام ہیں جو انسانوں اور جانوروں کو کاٹتی ہیں۔ مچھر اپنے منہ کے ذریعہ نہیں کاٹتا کیونکہ وہ اپنے جبڑے نہیں کھول سکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ جب مچھر جبڑے نہیں کھول سکتا اور پھر بھلا اپنے بند منہ سے کیسے کاٹ سکتا ہے۔ دراصل مچھر کے منہ کے آگے چھ عدد باریک نوکیلی سوئیاں ہوتی ہیں جوکہ اس کی تھوتھنی کے عین درمیان میں ہوتی ہیں، مچھر ان سوئیوں کو نوکیلے اوزار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ جوں ہی یہ نوکیلا اوزار انسان یا جانور کی کھال میں داخل ہوتا ہے تو مچھر کے منہ کا لعاب بھی ان باریک سوئیوں کے ذریعہ جسم میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہ لعاب زخمی حصہ پر یعنی جہاں مچھر نے اپنی باریک سوئیاں چبھوتی ہیں ، ایک تہہ سی جمادیتا ہے ، اس کی وجہ سے مچھر آنسانی سے خون پی لیتا ہے اور کھال پر خون کے قطرے نمودار نہیں ہوتے۔ اس کے بعد انسان کھجلی محسوس کرتا ہے اور اس کو کہتے ہیں کہ مچھر کاٹ گیا ہے۔
٭٭  ٭  ٭٭

TOPPOPULARRECENT