Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / مکانات کیلئے قرض کی اسکیم، بینکس مالی بوجھ کا شکار

مکانات کیلئے قرض کی اسکیم، بینکس مالی بوجھ کا شکار

قرض کی ادائیگی میں سست روی ، آر بی آئی سے اعداد و شمار کی اجرائی

حیدرآباد۔28جنوری(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے کم لاگتی مکانات کے لئے قرض کی اجرائی کی اسکیم کے نتیجہ میں ملک کے بینکوں پر امکنہ قرض کے بوجھ میں اضافہ ہونے لگا ہے اور سستے مکانات کی خریدی کیلئے حاصل کئے جانے والے قرضہ جات کی ادائیگی کے سلسلہ میں بھی سست رفتاری دیکھی جانے لگی ہے۔حکومت ہند نے گذشتہ بجٹ کے دوران سب کے لئے مکان اسکیم کے تحت کم قیمت کے مکانوں کی خریدی کیلئے بینکوں کے ذریعہ قرضہ جات کی فراہمی کے منصوبہ کا اعلان کیا تھا اور جاریہ سال کے دوران ملک بھر میں کئی افراد نے اس اسکیم سے استفادہ کیا ہے لیکن ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک برس کے اندر ہی امکنہ اسکیم کے تحت معمولی قرضہ جات حاصل کرتے ہوئے واپس نہ کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں سال 2016-17کے دوران 10لاکھ روپئے تک کے امکنہ قرضہ جات حاصل کرنے والوں کی تعداد میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور 25لاکھ تک کے قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔سال گذشتہ کی بہ نسبت اگر جاریہ مالی سال کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ نہ صرف قرض کی اجرائی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ساتھ ہی قرض نادہندگان کے فیصد میں بھی اضافہ دیکھا جانے لگا ہے۔ سال 2015-16 کے دوران 10لاکھ روپئے تک کے امکنہ قرض 12.6 فیصد لوگوں نے حاصل کیا جبکہ 10لاکھ تا25لاکھ کا قرض حاصل کرنے والوں کا فیصد 19.2 رہا اور اسی طرح 25لاکھ سے زائد کے قرض حاصل کرنے والوں کا فیصد 30.3 ہوا کرتا تھا لیکن سال 2016-17کے اعداد و شمار کاجائزہ لیا جائے تو 10لاکھ تک کا قرض حاصل کرنے والوں کے فیصد میں بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور 23.5فیصد لوگوں نے 10لاکھ تک کے امکنہ قرض بینکوں کے ذریعہ حاصل کئے ۔اس کے برعکس10سے 25لاکھ کے قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد میں بھاری گراوٹ ریکارڈ کی گئی اور یہ فیصد 6.3تک محدود ہوکر رہ گیا اور 25 لاکھ سے زائد قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد میں بھی گراوٹ دیکھی گئی اور یہ فیصد 11 تک محدود ہوکر رہ گیا۔ قرض نادہندگان میں 2لاکھ تک کے قرض ادا نہ کرنے والوں کا فیصد جو 2015-16کے دوران 9.8تھا وہ سال 2016-17کے دوران بڑھ کر 10.4ہوچکا ہے اسی طرح 5 لاکھ روپئے کے قرض حاصل کرنے والوں کا فیصد جو مالی سال 2015-16کے دوران 4فیصد تھا وہ بڑھ کر 4.4ہوچکا ہے۔10 لاکھ تک کے قرض نادہندگان کی تعداد جو 2015-16کے دوران 2.3 ریکارڈ کی گئی تھی اس میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور 2016-17 کے دوران یہ فیصد 2.1 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 25لاکھ تک قرض حاصل کرنے کے بعد قرض نادہندگان کے فیصد میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے 2015-16کے دوران یہ فیصد 1.4 تھا اور سال 2016-17 کے دوران یہ فیصد 1.3 ریکارڈ کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT