Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مکانات کی تعمیر ی منظوری کیلئے آن لائن سسٹم کے بہتر نتائج

مکانات کی تعمیر ی منظوری کیلئے آن لائن سسٹم کے بہتر نتائج

197درخواستیں وصول، 20تا30یوم میں درخواستوں کی یکسوئی، چیف سٹی پلانر کا بیان
حیدرآباد۔/6جولائی، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی خواہش کے مطابق جی ایچ ایم سی حدود میں مکانات کی تعمیری منظوری کیلئے آن لائن سسٹم کو متعارف کردیا ہے۔ گذشتہ ماہ شروع کردہ آن لائن سسٹم کے ذریعہ اب تک مکانات کی تعمیری منظوری کیلئے جملہ 197 درخواستیں وصول ہوئی ہیں جن کے منجملہ 20 درخواستوں کی یکسوئی کرکے مکانات کی تعمیری منظوری کے اجازت نامے بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے باوثوق ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ منظورہ 20مکانات کے اجازت ناموں میں 4 مکانات پانچ منزلہ، 6 چار منزلہ اپارٹمنٹس، مابقی دو تا تین منزلہ مکانات شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ مکانات کی تعمیری منظوری کیلئے شروع کردہ آن لائن سسٹم کا اہم مقصد مکانات کی تعمیر کیلئے اجازت ناموں کی اندرون 20تا 25یوم جاری کرنا ہے۔ اگر کوئی درخواست شرائط کے مطابق نہ ہونے کی صورت میں وصول ہونے پر ان درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر واپس کرتے ہوئے ضروری دستاویزات منسلک کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔ اس نئے آن لائن سسٹم کو پیش نظر رکھتے ہوئے عہدیداران متعلقہ نے بھی صرف 20تا25یوم میں ہی منظوریوں کے اجازت نامے جاری کرنے کے اقدامات کررہے ہیں۔ اسی دوران چیف سٹی پلانر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن مسٹر دیویندر ریڈی نے بتایا کہ مکانات کی تعمیری اجازت کے حصول کیلئے سابق میں درخواست داخل کرنے کے بعد ان درخواستوں کی جانچ کی جاتی تھی اور محکمہ ریونیو، فائر سرویس و دیگر محکمہ جات کی جانب سے جاری کئے جانے والے این او سی ( نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ ) کا جائزہ لیا جاتا تھا اور تمام صداقتنامے صحیح ثابت ہونے پر ہی پرمیشن فیس ادا کرنے کی ہدایت دی جاتی تھی

اور اس ہدایت کی روشنی میں مالک مکان یا درخواست گذار بینک جاکر فیس رقم بہ شکل ڈیمانڈ ڈرافٹ تیار کرکے بلدیہ دفتر میں داخل کرکے متعدد مرتبہ بلدیہ دفتر کے چکر کاٹنا پڑتا تھا اور مختلف مرحلوں میں مختلف اعتراضات کئے جاتے تھے اور ان اعتراضات کی روشنی میں بڑے پیمانے پر کرپشن بھی کیا جاتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اب غیر ضروری اعتراضات کرنے کی گنجائش فراہم نہیں ہے بلکہ اعتراض کی نوعیت کو واضح کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر درخواست گذار کو مکتوب روانہ کیا جاتا ہے۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے آن لائین کے ذریعہ وصول ہونے والی درخواستوں سے متعلق مقررہ وقت میں تعمیری اجازت نامہ نہ دیئے جانے پر کمشنر جی ایچ ایم سی کو وضاحت کرنا ضروری ہوگیا ہے کیونکہ آن لائین درخواستوں کے موقف سے متعلق تمام عہدیدار بھی واقف رہتے ہیں۔ بالخصوص آن لائن درخواستوں کے موقف سے خود کمشنر جی ایچ ایم سی بھی واقف رہا کرتے ہیں جس کی روشنی میں اب کسی بھی متعلقہ عہدیدار کو غیر ضروری اعتراض کرنے کی گنجائش فراہم نہیں ہوسکے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ آن لائین درخواست داخل کرنے کی تاریخ سے اجازت نامہ جاری کرنے تک تمام ہدایات و منظوری اور سفارش وغیرہ آن لائین پر ہی جاری رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ بلڈنگ پرمیشن فیس بھی اب ڈی ڈی کے بجائے آن لائین ہی ادا کی جاسکتی ہے جس کی وجہ سے اب کسی تاخیر کے بغیر شفافیت کے ساتھ مکانات کی تعمیر کی مقررہ مدت میں ہی اجازت حاصل ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT