Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے مسائل کی یکسوئی میں عدم دلچسپی

مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے مسائل کی یکسوئی میں عدم دلچسپی

ڈپٹی چیف منسٹر کی ہدایت کے باوجود اعلیٰ عہدیداروں کا اظہار تساہلی
حیدرآباد۔ /15ڈسمبر، ( سیاست نیوز) شہر کی دو تاریخی مساجد کے انتظامات کے سلسلہ میں اقلیتی بہبود کے تساہل کے نتیجہ میں ائمہ اور سپرنٹنڈنٹس خدمات میں توسیع کا انتظار کررہے ہیں لیکن ان فائیلوں کی یکسوئی میں کسی کو دلچسپی نہیں۔ اقلیتی بہبود کے تحت موجود مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے مسائل کے بارے میں اخبارات کے ذریعہ بارہا توجہ دہانی کے باوجود عہدیداروں میں کوئی ہلچل دکھائی نہیں دی۔ وقتی طور پر ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی عہدیداروں کو کارروائی کرنے کی ہدایت دیتے ہیں لیکن عہدیداروں کا رویہ حسب معمول ٹال مٹول کا رہتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مکہ مسجد کے دو ائمہ کی خدمات میں توسیع سے متعلق فائیل عہدیداروں کے پاس زیر التواء ہے۔ اس کے علاوہ دونوں مساجد کے سپرنٹنڈنٹس کی میعاد بھی ختم ہوچکی ہے۔ یہ افراد میعاد میں عدم توسیع کے باعث تنخواہوں سے محروم ہیں لیکن متعلقہ فائیلوں کی ترجیحی بنیاد پر یکسوئی کے بجائے انہیں عام فائیلوں کے ملبہ میں دبادیا گیا ہے۔ مکہ مسجد کے نائب خطیب اور امام حافظ و قاری محمد رضوان قریشی کی میعاد اگسٹ میں ختم ہوگئی جبکہ حافظ محمد عثمان کی میعاد بتایا جاتا ہے کہ نومبر میں ختم ہوچکی ہے۔ حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ میعاد کی تکمیل سے قبل ہی توسیع کے احکامات جاری کرتی لیکن آج تک ان فائیلوں کا کوئی پتہ نہیں۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے دفاتر کے درمیان یہ فائیلیں شاید کہیں گم ہوچکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بارہا توجہ دہانی کے باوجود ان مسائل کی یکسوئی نہیں کی گئی۔ تنخواہوں سے محرومی کے باوجود ائمہ اپنے فرائض بحسن خوبی انجام دے رہے ہیں۔ مکہ مسجد کے سپرنٹنڈنٹ کی میعاد اکٹوبر میں جبکہ شاہی مسجد کے سپرنٹنڈنٹ کی میعاد اگسٹ میں ختم ہوگئی۔ بتایا جاتا ہے کہ میعاد میں عدم توسیع کے نتیجہ میں دونوں مساجد میں انتظامات متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت نے دونوں مساجد کے تحت موجود اراضیات کے تحفظ کا فیصلہ کیا تھا لیکن آج تک اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے ایک ریٹائرڈ اعلیٰ پولیس عہدیدار کو مکہ مسجد کے انتظـامات کے نگرانکار کی طور پر تقرر کی تجویز پیش کی گئی لیکن کئی ماہ سے یہ صرف تجویز کی شکل میں ہی ہے۔ دونوں مساجد میں ملازمین کے تقررات کا بھی تیقن دیا گیا کیونکہ دونوں مساجد میں عملہ انتہائی ناکافی ہے۔ حال ہی میں شاہی مسجد کے تحت  موجود اوقافی اراضی کا بیشتر حصہ محکمہ ہارٹیکلچر کے قبضہ میں ہونے کا انکشاف کیا گیا لیکن اس اراضی کی بازیابی کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں مسجد کی اراضی پر عارضی مندر تعمیر کیا جاچکا ہے جو کسی بھی وقت مستقل مندر کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مکہ مسجد کے تحت موجود مکانات اور ملگیات کے کرایہ جات کی وصولی کا نظم نہیں ہے جس کے باعث کئی مالیاتی بے قاعدگیاں منظر عام پر آچکی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT