Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں پر اقلیتی بہبود کی عدم توجہ

مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں پر اقلیتی بہبود کی عدم توجہ

حیدرآباد ۔ 4 ۔ فروری(سیاست نیوز) حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین گزشتہ دو ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ ڈسمبر اور جنوری کی تنخواہ ابھی تک ادا نہیں کی گئی جس کے باعث ملازمین معاشی پریشانیوں کا شکار ہیں۔ حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مسلسل عدم توجہی کے سبب قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد عل

حیدرآباد ۔ 4 ۔ فروری(سیاست نیوز) حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین گزشتہ دو ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ ڈسمبر اور جنوری کی تنخواہ ابھی تک ادا نہیں کی گئی جس کے باعث ملازمین معاشی پریشانیوں کا شکار ہیں۔ حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مسلسل عدم توجہی کے سبب قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے تلنگانہ حکومت کو اپنی دو ماہ کی تنخواہ کا پیشکش کیا ہے تاکہ اسے دونوں مساجد کے ملازمین کی تنخواہوں کے طور پر تقسیم کیا جائے۔ چونکہ اقلیتی بہبود کا محکمہ تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں بجٹ کی عدم اجرائی کا بہانہ بنارہا ہے، لہذا محمد علی شبیر نے اپنی دو ماہ کی تنخواہ کا پیشکش کیا۔ وہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کر رہے ہیں جو اقلیتی بہبود قلمدان کے انچارج ہیں۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ اگر حکومت 8 دن میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی نہیں بنائے گی تو وہ ان مساجد کا دورہ کرتے ہوئے مسائل کا جائزہ لینے پر مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ دونوں مساجد کے مسائل کے سلسلہ میں جائزہ اجلاس طلب کریں اور تنخواہوں کے علاوہ دیگر زیر التواء مسائل کی یکسوئی کی جائے ۔

گزشتہ دو ماہ سے تنخواہوں سے محروم ملازمین میں دونوں مساجد کے امام ، خطیب ، مؤذن اور دیگر ملازمین شامل ہیں۔ دونوں مساجد کے انتظامات کو بہتر بنانے کیلئے مزید ملازمین کے تقررات کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ گزشتہ طویل عرصہ سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کی مانگ کی جارہی ہے ۔ معاشی مسائل کا شکار ملازمین کی جانب سے محمد علی شبیر سے نمائندگی کی گئی جس پر انہوں نے اپنی دو ماہ کی تنخواہ حکومت کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ غریب ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ حل ہو اور ان کے معاشی مسائل ختم ہوں۔ واضح رہے کہ ہر ماہ کی 5 تاریخ تک تنخواہ ادا کردی جاتی ہے لیکن ڈسمبر اور جنوری کی تنخواہ ابھی تک ادا نہیں کی گئی۔ اس سلسلہ میں ملازمین حکومت اور وزراء سے بارہا نمائندگی کرچکے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے گزشتہ ماہ دو دن میں تنخواہوں کی ادائیگی کا تیقن دیا تھا لیکن ابھی تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوسکا۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے ماہانہ ایک لاکھ 74 ہزار روپئے کی ضرورت ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ماہ قبل حکومت نے دونوں مساجد کے ملازمین کیلئے ماہِ رمضان کی خدمت کے عوض میں ایک ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا فیصلہ کیا اور 2 لاکھ 4 ہزار روپئے محکمہ اقلیتی بہبود کو جاری کردیئے گئے لیکن ابھی تک یہ رقم بھی تقسیم نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ مکہ مسجد کی سیکوریٹی پر تعینات 20 ہوم گارڈس بھی دو ماہ کی تنخواہ سے محروم ہیں۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ مکہ مسجد میں ملازمین کی 8 جائیدادیں خالی ہیں جن میں باتھ روم کی صفائی سے متعلق دو جائیدادیں شامل ہیں۔ خطیب مکہ مسجد کے عہدہ پر ایک سال سے تقرر نہیں کیا گیا اور موجودہ خطیب بلا معاوضہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئے خطیب کے تقرر کے علاوہ وظیفہ پر سبکدوش خطیب کو تاحیات ماہانہ 10,000 روپئے وظیفہ مقرر کیا جائے ۔ انہوں نے ملازمین کی تنخواہوں کے مطالبہ کی فوری یکسوئی کی مانگ کی اور کہا کہ ملازمین کو یہ تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں، وہ لیبر ایکٹ کی طئے شدہ اقل ترین تنخواہوں سے کم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT