Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہیں ، چیف منسٹر کے دفتر سے مداخلت کا فیصلہ

مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہیں ، چیف منسٹر کے دفتر سے مداخلت کا فیصلہ

جناب محمد علی شبیر کانگریس ڈپٹی لیڈر کے چیف منسٹر کو مکتوب پر کے سی آر کا ردعمل

جناب محمد علی شبیر کانگریس ڈپٹی لیڈر کے چیف منسٹر کو مکتوب پر کے سی آر کا ردعمل
حیدرآباد۔/12فبروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے دفتر نے مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں کے مسئلہ پر مداخلت کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں اور کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اپنی دو ماہ کی تنخواہ کا پیشکش کیا۔ اس مسئلہ پر چیف منسٹر نے متعلقہ عہدیداروں کو ضروری کارروائی کی ہدایت دی۔ چیف منسٹر کے دفتر کے ذرائع کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود سے اس سلسہ میں وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے محکمہ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ اس بارے میں محکمہ سے تفصیلات حاصل کریں۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے 1030کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا ہے اس کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود کے پاس شہرکی دو اہم مساجد کے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے بجٹ نہیں۔ چیف منسٹر کے دفتر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ محکمہ کو بجٹ کی عدم اجرائی کی صورت میں کسی اور محکمہ کے بجٹ سے رقم خرچ کرنے اختیار حاصل ہے کئی اقلیتی ادارے ایسے ہیں جنہیں بجٹ جاری کردیا گیا لیکن خرچ نہیں ہوا۔ ان اداروں کے بجٹ سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے اپنی دو ماہ کی تنخواہ کا پیشکش کیا ہے۔ انہوں نے سکریٹری اقلیتی بہبود اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود سے اس سلسلہ میں نمائندگی کی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ جاری نہیں کیا گیا جبکہ فائیل محکمہ فینانس کو روانہ کی جاچکی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس صورتحال کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود ذمہ دار ہے۔ جاریہ سال کے بجٹ کی تیاری کے موقع پر مکہ مسجد اور شاہی مسجد کیلئے منصوبہ جاتی مصارف کے تحت بجٹ کی سفارش نہیں کی گئی جبکہ ہر سال منصوبہ جاتی بجٹ میں تنخواہوں کا بجٹ شامل کیا جاتا ہے۔ حکومت نے غیر منصوبہ جاتی بجٹ کے تحت دونوں مساجد کیلئے صرف 6لاکھ روپئے ہی منظور کئے۔ بتایا جاتا ہے کہ بجٹ کے حصول میں ناکامی دراصل عہدیداروں کا قصور ہے۔ عدم اجرائی کیلئے حکومت کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسی دوران محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو امید ہے کہ اندرون ایک ہفتہ محکمہ فینانس بجٹ کو منظوری دے گا جس کے بعد دو ماہ کی تنخواہ جاری کردی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT