Monday , July 16 2018
Home / Top Stories / مکہ مسجد بم دھماکہ کیس ‘ آج فیصلہ کا اعلان متوقع‘ شہر میں چوکسی

مکہ مسجد بم دھماکہ کیس ‘ آج فیصلہ کا اعلان متوقع‘ شہر میں چوکسی

اہم ملزمین کی اجمیر ڈسٹرکٹ جیل سے حیدرآباد کو منتقلی‘ ساؤتھ زون اورسنٹرل زون میں پولیس پکٹس تعینات
حیدرآباد ۔ /15 اپریل (سیاست نیوز) مکہ مسجد بم دھماکے کیس میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کی طرف سے 16 اپریل کو فیصلہ کا اعلان متوقع ہے جس کے پیش نظر شہر میں پولیس نے چوکسی اختیار کرلی ہے اور نامپلی کریمنل کورٹ کے اطراف و اکناف علاقوں کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کیا جارہا ہے ۔ /18 مئی 2007 ء کو تاریخی مکہ مسجد میں پیش آئے طاقتور بم دھماکے کے کیس کی سماعت گزشتہ ہفتہ مکمل ہونے پر چوتھے ایڈیشنل میٹرو پولیٹین سیشن جج و این آئی اے کی خصوصی عدالت نے /16 اپریل کو اس ضمن میں فیصلہ سنانے کیلئے تاریخ طئے کی تھی ۔ دھماکے کیس کے اہم ملزمین دیویندر گپتا ، لوکیش شرما ، راجیندر چودھری جو درگاہ اجمیر شریف میںدھماکوں کے ایک مقدمہ میں مجرم قرار دیئے جانے کے بعد عمر قید کی سزاء کاٹ رہے ہیں انہیں اجمیر ضلع جیل سے حیدرآباد لایا گیا ہے اور کل انہیں سخت سکیورٹی کے درمیان عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔ اس موقع پر سنٹرل زون پولیس نے نامپلی کریمنل کورٹ کے احاطہ کے علاوہ اطراف و اکناف علاقوں میں 300 سے زائد پولیس ملازمین کو متعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس سنٹرل زون وشواپرساد نے بتایا کہ دھماکے کیس کے فیصلے کے پیش نظر آرمڈ پلاٹونس ، 100 سے زیادہ کانسٹبلس ، 3 اسسٹنٹ کمشنران ، 10 انسپکٹران اور دیگر پولیس عہدیداروں کو ڈیوٹی پر متعین کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ نامپلی علاقہ میں مسلح پولیس پکٹس متعین کئے جارہے ہیں اور پولیس پٹرولنگ میں شدت پیدا کردی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل پولیس پارٹیوں کو بھی تشکیل دیا گیا ہے تاکہ فیصلے کے بعد علاقے میں کڑی نظر رکھی جاسکے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ مکہ مسجد بم دھماکے کیس کے فیصلے کے بعد شہر کے حساس ساؤتھ ، ویسٹ اور ایسٹ زونس میں پولیس کو چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ فیصلے کے ردعمل کے طور پر کسی بھی قسم کے احتجاج یا دھرنے کو فی الفور ناکام بنایا جاسکے ۔ واضح رہے کہ سال 2007 ء میں مکہ مسجد میں طاقتور بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 9 مصلیان جاں بحق اور 58 زخمی ہوگئے تھے ۔ اس کیس کی تحقیقات کو ابتداء میں سی بی آئی کے حوالے کیا گیا تھا اور بعد ازاں نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے سوامی اسیمانند ، بھرت بھائی اور دیگر آر ایس ایس کارکنوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی ۔ اس کیس کے اہم ملزمین رام چندر کالسانگرا اور سندیپ ڈانگے ہنوز مفرور ہے اور ان کیخلاف انٹرپول کی ریڈکارنر نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ این ٹی نے 2011 میں اس مقدمہ کو سی بی آئی سے حاصل کیا تھا اور دائیں بازو کی سخت گیر ہندوتوا تنظیموںسے تعلق رکھنے والے 10 افراد کو ملزم بنایا گیا تھا اور صرف پانچ مقدمہ کا سامنا کر رہے ہیں ۔ اس مقدمہ میں 226 گواہوں پر جرح کی گئی اور 411 دستاویزات کی جانچ کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT