Tuesday , November 13 2018
Home / Top Stories / مکہ مسجد بم دھماکہ کیس : لیفٹننٹ کرنل پروہت بیان سے منحرف

مکہ مسجد بم دھماکہ کیس : لیفٹننٹ کرنل پروہت بیان سے منحرف

سوامی اسیما نند سے ملاقات کی تردید، نامپلی کریمنل کورٹ میں بیان قلمبند

حیدرآباد۔ 14 فروری (سیاست نیوز) مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کی تحقیقات نے آج اس وقت نیا موڑ اختیار کرلیا جب مالیگاؤں دھماکہ۔2008ء کیس کے کلیدی ملزم لیفٹننٹ کرنل سریکانت پرساد راؤ پروہت نے نامپلی عدالت میں حاضر ہوکر اپنے سابق بیان سے منحرف ہوگیا۔ کرنل پروہت مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کا گواہ نمبر 106 ہے اور اسے چوتھے ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج و این آئی اے کی خصوصی عدالت نے عدالت میں حاضر ہونے کیلئے سمن جاری کیا تھا جس کے نتیجہ میں عدالت میں اپنی حاضر کے دوران بیان قلمبند کرایا اور بعدازاں تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے ریکارڈ کئے گئے اپنے بیان سے منحرف ہوگیا اور استغاثہ نے اسے منحرف گواہ قرار دیا۔ کرنل پروہت کو فوج کی سکیورٹی کے درمیان نامپلی کرمنل کورٹ لایا گیا تھا۔ تفصیلات کے بموجب 18 مئی 2007ء کو تاریخی مکہ مسجد میں بم دھماکہ ہوا تھا جس کی تحقیقات سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کے حوالے کی گئی اور یہ تحقیقاتی ایجنسی نے مالیگاؤں دھماکہ کے کلیدی ملزم کرنل سریکانت پروہت سے ناسک جیل میں پوچھ تاچھ کرتے ہوئے اس کا بیان قلمبند کیا تھا۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ کے بموجب سریکانت پروہت نے ڈسمبر 2007ء میں مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کے ملزم نبا کمار سرکار عرف سوامی اسیمانند سے ملاقات کی تھی اور اس دھماکہ کیس کے مقتول ملزم سنیل جوشی سے متعلق اظہار خیال کیا تھا جس میں سوامی اسیمانند نے پروہت کو سنیل جوشی کو ’’اپنا بندہ‘‘ ہونے کی بات کہی تھی، لیکن کرنل پروہت نے آج عدالت میں استغاثہ کی جانب سے کئے گئے جرح کے دوران یہ بتایا کہ اس نے فوج کے کاؤنٹر انٹلیجنس شعبہ میں خدمات انجام دی ہیں اور اس عہدہ پر اس نے کئی افراد سے اپنی ملاقات کی تھی۔ مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کے ملزم سوامی اسیمانند سے اس نے کوئی ملاقات نہیں کی اور نہ ہی اس نے کسی تحقیقاتی ایجنسی کو اپنا بیان قلمبند کرایا۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی تحقیقاتی کے بغیر ہی پولیس نے اسے گرفتار کیا تھا جس کے نتیجہ میں وہ 9 سال تک جیل میں محروس تھا۔ عدالت کو کرنل پروہت نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ کو اس نے یہ بات واضح طور پر بتائی تھی کہ بغیر کسی تحقیقات کے اسے گرفتار کیا جانا غلط ہے اور اگست 2017ء میں اس کی ضمانت پر رہائی عمل میں آئی تھی۔ واضح رہے کہ این آئی اے نے مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں دیویندر گپتا، لوکیش شرما، سوامی اسیمانند، بھارت موہن لال راتیشور اور راجیندر چودھری کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی جبکہ اس کیس کے کلیدی ملزمین رام چندر کال سانگرا اور سندیپ دانگے ہنوز مفرور ہیں۔

TOPPOPULARRECENT