Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد بم دھماکہ کیس مباحث مکمل : 16 اپریل کو فیصلہ

مکہ مسجد بم دھماکہ کیس مباحث مکمل : 16 اپریل کو فیصلہ

حیدرآباد 10 اپریل (سیاست نیوز) مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کا فیصلہ 16 اپریل کو سنایا جائیگا۔ چوتھے ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سشن جج و این آئی اے خصوصی جج نے وکیل دفاع و استغاثہ کے مباحث مکمل ہونے پر کیس کا فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔ 18 مئی 2007 ء کو تاریخی مکہ مسجد میں طاقتور بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 9 مصلیان جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ دھماکہ کے بعد احتجاج کرنے والے بے قصور مصلیان کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔ ابتداء میں حسینی علم پولیس اسٹیشن میں دھماکہ سے متعلق ایک مقدمہ درج کیا گیا اور اِس کیس کی تحقیقات کیلئے اسپیشل انوسٹی گیشن سیل قائم کیا گیا تھا جس نے 100 سے زائد بے قصور نوجوانوں کو تحقیقات کے نام پر حراست میں لے کر اذیت دی تھی۔ ٹیم کو بعدازاں تحلیل کردیا گیا تھا۔ اُس وقت کی ریاستی حکومت نے کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے ذریعہ کرانے کا فیصلہ کیا اور مرکزی ایجنسی کو کیس حوالے کردیا گیا۔ تحقیقات کے دوران سی بی آئی نے آر ایس ایس پرچارکوں اور ملک بھر میں مسلم مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے میں ملوث ٹولی کا پتہ لگایا۔ سی بی آئی نے مکہ مسجد بم دھماکہ میں ملوث آر ایس ایس کارکنوں دیویندر گپتا عرف بابی، لوکیش شرما عرف اجئے تیواری، نبا کمار سرکار عرف سوامی اسیمانند، بھرت موہن لال راتیشور عرف بھرت بھائی، راجندر چودھری عرف سمندر کو گرفتار کرکے چارج شیٹ داخل کی تھی جبکہ کیس کے کلیدی ملزمین سندیپ دانگے اور رامچندر کال سانگرا کو مفرور قرار دیا۔ ایک اور ملزم آر ایس ایس کارکن سنیل جوشی کا نام چارج شیٹ سے حذف کردیا گیا تھا چونکہ آر ایس ایس کے اُس کے ساتھیوں نے اُس کا قتل کردیا تھا۔ استغاثہ نے 226 گواہوں کو پیش کیا تھا جس میں 64 بیان سے منحرف ہوگئے تھے جس میں لیفٹننٹ سریکانت پروہت بھی شامل ہے۔ مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کے فیصلہ کے پیش نظر پولیس نے کورٹ کے احاطہ میں سکیورٹی کے وسیع تر انتظامات کا منصوبہ بنایا ہے اور انٹلی جنس اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کو چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے کیوں کہ کیس کے تمام ملزمین کو فیصلے کے دن عدالت میں سخت سکیورٹی کے درمیان پیش کیا جائیگا۔

TOPPOPULARRECENT