Wednesday , May 23 2018
Home / Top Stories / مکہ مسجد دھماکہ کیس: زعفرانی دہشت گردی کی پردہ پوشی کیلئے یوگی کی کوشش

مکہ مسجد دھماکہ کیس: زعفرانی دہشت گردی کی پردہ پوشی کیلئے یوگی کی کوشش

حیدرآباد۔/18 اپریل، ( سیاست نیوز) مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) کے رول پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان ایک اور حقیقت حیرت انگیز طور پر سامنے آئی ہے کہ یو پی کیڈر کی خاتون آئی پی ایس آفیسر پرتیبھا امبیڈکر کو اس کیس کے فیصلہ سے صرف 10 دن قبل ہی یو پی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے انہیں اس کیس سے ہٹاکر یو پی طلب کرلیا۔اتنا ہی نہیں واپس طلبی کے احکامات کے اندرون چند گھنٹے اس عہدیدار کوذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا گیا۔ زعفرانی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کی سلسلہ وار کوششوں میں یہ بھی کوشش شامل تھی کہ این آئی اے اپنے تحقیقاتی مواد کو کمزور بنادے۔ تفصیلات کے بموجب سال 2007 ء آئی پی ایس بیاچ سے تعلق رکھنے والی پرتیبھا امبیڈکر اتر پردیش کیڈر سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کی سماعت کی راست طور پر نگرانی کررہی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 6 اپریل کو این آئی اے کے اڈمنسٹریشن ونگ نے پرتیبھا امبیڈکر کو ان کی مقررہ مدت یعنی چار سال مکمل ہونے سے پانچ ماہ قبل ہی ان کی خدمات کو اتر پردیش حکومت کو واپس لوٹانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس ضمن میں احکامات جاری کئے۔ اس خاتون آئی پی ایس عہدیدار کا این آئی اے سے اچانک تبادلہ کئی سوالیہ نشان کھڑے کردیتا ہے۔پرتیبھا امبیڈکر مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کو درگاہ اجمیر شریف میں ہوئے بم دھماکے کیس ریکارڈ میں موجود کال ڈیٹا ریکارڈ ( سی ڈی آر ) کو اس کیس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن بعض آلہ کاروں نے انہیں روک دیا۔
خاتون آئی پی ایس عہدیدار دھماکہ کیس کی سماعت کیلئے این آئی اے وکیل کو وقتاً فوقتاً اہم مشورے دے رہی تھیں لیکن اسے نظر انداز کردیا گیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت نے پرتیبھا امبیڈکر کو واپس طلب کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی لیکن احکامات میں ’’ وسیع تجربہ ‘‘ کی بنیاد پر انہیں واپس طلب کرنے کا بہانہ بتایا گیا۔ واضح رہے کہ مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں این آئی اے عدالت نے 5 ملزمین بشمول سوامی اسیما نند کو دو دن قبل الزامات سے بری کردیا تھا اور فیصلہ کے اندرون چند گھنٹے این آئی اے خصوصی عدالت کے جج کے رویندر ریڈی نے استعفی پیش کردیا تھا۔ اسی طرح این آئی اے کے وکیل کی سابق میں اے بی وی پی تنظیم سے وابستگی ہونے پر بھی بعض تنظیموں نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ دھماکہ میں 9 افراد جاں بحق اوردیگر 58 زخمی ہوگئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT