Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد میں سیکوریٹی کوتاہی برقرار

مکہ مسجد میں سیکوریٹی کوتاہی برقرار

حکام کی لاپرواہی ، 20 سی سی کیمرے غیر کارکرد
حیدرآباد۔/15 جون، ( سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کی سیکورٹی کے سلسلہ میں حکام کی لاپرواہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 43 سی سی ٹی وی کیمروں میں تقریباً 20 کیمرے ابھی تک کارکرد نہیں ہوئے جبکہ 10 دن قبل ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے ہاتھوں سی سی ٹی وی کیمروں کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ پولیس کو کیمرے فراہم کرنے والے کنٹراکٹر کو مکہ مسجد کے کیمروں کی تنصیب کی ذمہ داری دی گئی اور بتایا جاتا ہے کہ کنٹراکٹر نے ابھی تک تمام کیمروں کو مسجد میں قائم کردہ کنٹرول روم سے مربوط کرنے کا کام مکمل نہیں کیا ہے یہی وجہ ہے کہ کنٹرول روم ابھی تک مکہ مسجد حکام کے سپرد نہیں کیا گیا۔ تکنیکی وجوہات کو بنیاد بناکر کہا یہ جارہا ہے کہ تمام کیمروں کے کارکرد ہونے میں مزید وقت لگے گا۔ کیمروں کی تنصیب سے متعلق ٹیم کے افراد روزانہ مسجد کے احاطہ میں قائم کردہ کنٹرول روم میں کام انجام دینے کے بعد اسے مقفل کرکے چلے جاتے ہیں۔ مکہ مسجد کے حکام ابھی تک اس بات سے لاعلم ہیں کہ کیمروں اور کنٹرول روم میں کیا ربط ہے اور کتنے دن کی ریکارڈنگ محفوظ کی جاسکتی ہے۔ کنٹرول روم کی نگرانی کیلئے باقاعدہ ٹیم کی ضرورت ہے اور مکہ مسجد کے حکام نے 3 افراد پر مشتمل ٹیم تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔ مسجد میں کیمرے تو نصب کردیئے گئے لیکن ان کی ریکارڈنگ اور پھر گزشتہ دنوں کی کوئی ریکارڈنگ نکالنا ہو تو اس کے لئے کوئی ماہر موجود نہیں۔ سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد کے روم میں سابق میں اسکرین موجود تھا جہاں سے مسجد کے مختلف گوشوں کی نگرانی کی جاسکتی تھی لیکن نئے کیمروں کی تنصیب کے بعد کوئی اسکرین نصب نہیں کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کیمروں کی عدم کارکردگی سے مکہ مسجد کے اسٹاف کو رمضان المبارک کے دوران عمارت کے تمام علاقوں کی نگرانی میں دشواری ہورہی ہے۔ مسجد کے اسٹاف کی تعداد کم ہے اور وہ اس قدر وسیع و عریض مسجد کے تمام علاقوں کی نگرانی سے قاصر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کیمروں کی تنصیب کیلئے کسی اور خانگی ادارہ کی خدمات حاصل کی جارہی تھیں تاہم پولیس کے اصرار پر اس ادارہ کو یہ کام دیا گیا جو پولیس کو سی سی ٹی وی کیمرے سربراہ کرتا ہے۔ اسی دوران مکہ مسجد کی چھت پر 5.5 لاکھ روپئے کے صرفہ سے واٹر پروف شیٹ بچھائے جانے سے چھت میں پانی اُترنا بند ہوچکا ہے۔ گزشتہ دنوں ہوئی شدید بارش کے باوجود پانی چھت میں نہیں اُتر سکا اور رمضان المبارک کے بعد آرکیالوجیکل ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ماہرین چھت کی درستگی کا کام انجام دیں گے جس کے لئے حکومت نے 8.48کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ مکہ مسجد کے احاطہ میں موجود آصف جاہی خاندان کے قبور پر مشتمل مقبرہ، مدرستہ الحفاظ اور آثار مبارک کی عمارت کو مکہ مسجد کے انتظامیہ کے کنٹرول میں دیا گیا ہے۔ اُمور مذہبی نظام ٹرسٹ نے اس سے اتفاق کیا تاکہ ان عمارتوں کی تعمیر و مرمت کا کام سرکاری خرچ پر انجام دیا جاسکے۔ مقبرہ کی چھت انتہائی خستہ ہوچکی ہے اور معمولی بارش پر پانی چھت سے گرتا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران مکہ مسجد میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مصلی اور سیاح آتے ہیں ایسے میں اہم باب الداخلہ اور دیگر مرکزی مقامات پر سی سی ٹی وی کیمروں کی عدم کارکردگی سے سیکورٹی پر تعینات عملہ بھی پریشان ہے۔ انہیں ہر شخص کی جامہ تلاشی میں دشواری پیش آرہی ہے۔ اگر کیمرے کارکرد ہوتے تو سیکورٹی اسٹاف کا کام کسی قدر کم ہوجاتا۔ اسی دوران مکہ مسجد کے اسٹاف نے کیمروں کی عدم کارکردگی کے بارے میں محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو واقف کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT