Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد میں مسائل جوں کے توں برقرار ، ملازمین تنخواہوں سے محروم

مکہ مسجد میں مسائل جوں کے توں برقرار ، ملازمین تنخواہوں سے محروم

حیدرآباد ۔ 15۔ جون (سیاست نیوز) شہر کی تاریخی مکہ مسجد میں رمضان المبارک کے انتظامات کے سلسلہ میں حکومت کے ذمہ داروں اور عوامی نمائندوں نے دورہ کیا لیکن وہاں کے مسائل جوں کا توں برقرار ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مسجد کا معائنہ کیا لیکن مسجد کو درپیش اہم مسائل کی یکسوئی نہیں کی گ

حیدرآباد ۔ 15۔ جون (سیاست نیوز) شہر کی تاریخی مکہ مسجد میں رمضان المبارک کے انتظامات کے سلسلہ میں حکومت کے ذمہ داروں اور عوامی نمائندوں نے دورہ کیا لیکن وہاں کے مسائل جوں کا توں برقرار ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مسجد کا معائنہ کیا لیکن مسجد کو درپیش اہم مسائل کی یکسوئی نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دورہ کے موقع پر مکہ مسجد کے ملازمین نے اپنے مسائل پیش کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ رمضان کے آغاز کیلئے تین دن باقی ہیں لیکن ملازمین ماہِ مئی کی تنخواہ سے ابھی تک محروم ہیں۔ جون کا نصف ماہ گزر گیا لیکن اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو تنخواہوں کی اجرائی کا خیال نہیں آیا۔ مکہ مسجد کے ملازمین بشمول امام اور خطیب کے علاوہ سیکوریٹی ڈیوٹی پر تعینات ہوم گارڈس ابھی تک ماہِ مئی کی تنخواہ سے محروم ہیں اور وہ رمضان کی آمد کے پیش نظر مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں کیلئے سالانہ 30 لاکھ اور ہوم گارڈس کی تنخواہوں کیلئے 36 لاکھ روپئے کی ضرورت ہے لیکن جاریہ سال بجٹ میں تنخواہوں کیلئے علحدہ رقم مختص نہیں کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت نے 30 لاکھ کے بجائے صرف 8 لاکھ روپئے کی بجٹ میں گنجائش رکھی تھی لیکن وہ رقم بھی ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کی نگہداشت اور مینٹننس کے لئے بجٹ میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی جبکہ سالانہ ایک کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں میں گزشتہ پانچ برسوں سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں سالانہ اضافہ کیا جانا چاہئے ۔ بتایا گیا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے تنخواہوں میں اضافہ سے متعلق فائل حکومت کو روانہ کی ہے لیکن ابھی تک اسے منظور نہیں کیا گیا۔ ملازمین کو توقع تھی کہ اعلیٰ سطحی دورہ کے موقع پر ان کے مسائل کی سماعت اور یکسوئی کی جائے گی لیکن انہیں مایوسی ہوئی۔ ملازمین کی جملہ تعداد 26 ہے جن میں سے 8 عہدے مخلوعہ ہیں۔ مسجد کی صفائی اور دیگر انتظامات کیلئے موجودہ عملہ انتہائی ناکافی ہے ۔ حکومت کو ملازمین کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے کم از کم مزید 10 تا 15 ملازمین کا تقرر کرنا چاہئے ۔ حکومت نے رمضان ا لمبارک سے قبل مسجد کے بیت الخلاؤں کی تعمیر کا وعدہ کیا تھالیکن ابھی تک یہ کام مکمل نہیں کیا گیا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حکومت نے رمضان المبارک کیلئے پانچ کروڑ روپئے گرانٹ کا اعلان کیا اور ہر ضلع کے لئے 50 لاکھ روپئے کی اجرائی کی بات کہی گئی لیکن اس سلسلہ میں وقف بورڈ کو کوئی بجٹ تاحال جاری نہیں کیا گیا۔ اب جبکہ رمضان المبارک کے آ غاز کیلئے صرف تین دن باقی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ حکومت 5 کروڑ روپئے کب جاری کرے گی اور یہ رقم ہر ضلع میں مساجد تک کب پہنچ پائے گی۔ گزشتہ سال بھی پانچ کروڑ روپئے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بجٹ کی کمی کے سبب تمام اضلاع کی مساجد کو امداد نہیں پہنچ سکی۔ مصلیان مکہ مسجد و شاہی مسجد کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان مساجد کے انتظامات پر ایک ماہ قبل سے توجہ دینی چاہئے تاکہ رمضان المبارک کے دوران مصلیان کو سہولت ہو۔ 5 کروڑ روپئے کی اجرائی کے سلسلہ میں جب اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں سے ربط قائم کیا گیا تو انہوں نے اس سلسلہ میں لا علمی کا اظہار کیا تاہم توقع ظاہر کی کہ حکومت جلد ہی بجٹ جاری کردے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT