Thursday , December 13 2018

مکہ مسجد میں موجود تہنیت النساء کا مقبرہ ایک اسٹور روم میں تبدیل

4سلاطین آصفیہ اور 9 ارکان شاہی کی قبور ، اکثر پر کتبوں کی عدم موجودگی ، ارباب مجاز کو حرکت میں آنے کی ضرورت

4سلاطین آصفیہ اور 9 ارکان شاہی کی قبور ، اکثر پر کتبوں کی عدم موجودگی ، ارباب مجاز کو حرکت میں آنے کی ضرورت

حیدرآباد ۔ 6 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تاریخی مکہ مسجد ساری دنیا بالخصوص عالم اسلام میں شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کی پہچان ہے ۔ دنیا بھر سے اس شہر کا رخ کرنے والے افراد خاص کر سیاح تاریخی مکہ مسجد کا نظارہ اور مشاہدہ ضرور کرتے ہیں ۔ مکہ مسجد کی اپنی ایک شناخت اور ایک پہچان ہونے کے علاوہ اس کے ہر پہلو اور سمت و زاوئیے کی اپنی ایک تاریخ ہے اور اس عالی شان مسجد کے ہنوز کئی ایسے پہلو ہیں جن سے آج کے شہری اور عوام کی کثیر تعداد ناواقف ہے ۔ مکہ مسجد کے کئی تاریخی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے اس کی کڑی آج کی یہ خصوصی رپورٹ بھی ہے جس میں مکہ مسجد کے ایک مقبرہ کو اسٹوروم میں تبدیل کرتے ہوئے اس کی بے حرمتی ، مقبرہ میں آرام فرما ایک بہادر خاتون کے نام سے عدم واقفیت ، ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود اور نظام ٹرسٹ جو کہ مکہ مسجد اور اس میں موجود مقبروں کے نگراں محکمے ہیں لیکن ان میں تال میل کا فقدان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات واضح ہیں ۔ مکہ مسجد کی تاریخی بنیادی حقائق سے تو سبھی واقف ہیں کہ یہ مسجد 1618 تا 1692 تک یعنی 75 سال کے عرصے میں 4 سلاطین محمد قلی قطب شاہ ، عبداللہ قطب شاہ ، تاناشاہ اور مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیرؒ کی زیر نگرانی میں مکمل ہوئی ہے بعد ازاں آصف جاہی حکمرانوں نے اس تاریخی مکہ مسجد پر خصوصی توجہ مرکوز کی ۔ بیت العتیق سے مکہ مسجد کا نام رکھنے کی تاریخ بھی کافی دلچسپ ہے کیوں کہ جب اس مسجد کی تعمیر کے لیے مکہ مکرمہ سے مٹی لاکر اس کی اینٹیں بناکر مسجد میں جگہ جگہ نصب کی گئیں تو اس کا نام مسجد العتیق سے مکہ مسجد ہوگیا اور یہ اورنگ زیبؒ کا دور تھا ۔ لیکن آج مکہ مسجد کے ایک مقبرہ کو اسٹوروم میں تبدیل کرنے کے علاوہ اس مقبرہ کی بے حرمتی ہورہی ہے بلکہ 23 ہزار 97 مربع گز اراضی پر محیط اس مسجد میں ایک اسٹو روم کی تعمیر کے لیے کوئی دوسرا مقام نہیں مل رہا ہے جو کہ انتہائی افسوس کی بات ہے ۔ اس مقبرہ کے تاریخی حقائق یہاں کے ایک قدیم خادم فیض محمد خاں نے بتائے جن کی عمر تقریبا 80 برس کی ہے ۔ انہوں نے مقبرہ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقبرہ تہنیت النساء نامی خاتون کا ہے کہ جن کی بہادری کافی مشہور ہے ۔ تلوار چلانے میں ماہر اور جنگجو اس خاتون کی بہادری کی وجہ سے انہیں ’ خان بہادر خاتون ‘ کا لقب دیا گیا تھا ۔ تہنیت النساء کا تاریخی مقبرہ اب ایک گودام میں تبدیل ہوچکا ہے جہاں جگہ جگہ سامان اور ڈبے پڑے دکھائی دینے کے علاوہ یہاں فاضل سامان پڑا ہوا ہے ۔ جو کہ اس مقبرہ کی کھلی بے حرمتی ہے ۔ مکہ مسجد اور باغ عامہ کی شاہی مسجد ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کی نگرانی میں آتی ہیں لیکن مکہ مسجد میں جن 5 سلاطین آصفیہ اور 9 ارکان شاہی خاندان کی تمام قبور ، مقبرے اور تہنیت النساء کے مقبرہ کا نگران کار ایچ ای ایچ دی نظام ٹرسٹ ہے ۔ مسجد کی نگرانی محکمہ اقلیتی بہبود اور مقبروں کی ذمہ داری نظام ٹرسٹ کے سپرد ہونے کے باوجود ان 2 محکموں میں تال میل کا فقدان ہے اور یہاں کی زبوں حالی کا یہ ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرتے ہیں ۔ مکہ مسجد کی دیکھ بھال اور اس کی نگہداشت کے لیے جہاں کئی اقدامات کئے جاتے ہیں وہیں دفتر ناظم الامور ایچ ای ایچ دی نظام ٹرسٹ کے محکمہ امور مذہبی کو بھی چاہئے کہ دوسرے محکمہ اور انتظامیہ کے ساتھ تال میل کو بہتر بناتے ہوئے اس مقبرہ تہنیت النساء کی بے حرمتی کے اس سلسلہ کو بند کرنے کے فوراً اقدامات کریں تاکہ مکہ مسجد میں اسٹور روم تعمیر کرتے ہوئے جہاں سامان کی حفاظت کا بہتر انتظام کو یقینی بنایا جاسکے وہیں اس مقبرہ کی بے حرمتی کے سلسلہ کو ختم کیا جاسکے ۔ یہ بھی قابل غور حقیقت ہے کہ 4 سلاطین اور شاہی خاندان کے 14 قبور یہاں موجود ہونے کے باوجود کسی بھی مزار پر تفصیلات کا کوئی کتبہ نہیں اور اس غفلت کی وجہ سے عوام کو قبور کی شناخت میں کافی مشکلات بھی ہورہی ہیں ۔ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ نظام ٹرسٹ کے ارباب مجاز فوری طور پر ان مزارات پر کتبوں کو نصب کرنے کے انتظامات بھی کریں ۔ یہ ہی نہیں بلکہ مسجد میں موجودہ سلاطین آصفیہ اور شاہی خاندان کے قبور کی تفصیلات پر مشتمل بورڈ کو کسی مناسب جگہ نصب کرے تاکہ نہ صرف شہریان حیدرآباد اور نئی نسل کے نوجوانوں بلکہ سیاحوں کو بھی ہمارے اسلاف کے کارناموں اور ان کی آخری آرام گاہوں کے بارے میں واقف ہونے کا سنہری موقع مل سکے ۔۔

TOPPOPULARRECENT