Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد میں 2 کروڑ لاگتی پراجکٹس ناکام و نا مکمل

مکہ مسجد میں 2 کروڑ لاگتی پراجکٹس ناکام و نا مکمل

ایک کروڑ 30 لاکھ کے زیر زمین سمپ کا کوئی فائدہ نہیں 8 لاکھ کے تعمیراتی کاموں کے باوجود حوض میں ہنوز لیکیج 37 لاکھ روپئے سے دیواروں کی کیمیائی صفائی بھی بے فیض 8 لاکھ کے خرچ کے بعد بھی چھت ٹپک رہی ہے

ایک کروڑ 30 لاکھ کے زیر زمین سمپ کا کوئی فائدہ نہیں 8 لاکھ کے تعمیراتی کاموں کے باوجود حوض میں ہنوز لیکیج
37 لاکھ روپئے سے دیواروں کی کیمیائی صفائی بھی بے فیض 8 لاکھ کے خرچ کے بعد بھی چھت ٹپک رہی ہے
حیدرآباد ۔ 23 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور تمام مساجد میں بندگان توحید جو کہ روزہ کی حالت میں اپنی بھوک و پیاس کی شدت کی پرواہ کیے بغیر اللہ رب العزت کی خوشنودی کے لیے اس کے گھر مساجد کا رخ کرتے ہیں اور مساجد کے انتظامیہ بھی اللہ کے ان روزہ دار مہمانوں کو سہولیات کو اعلیٰ معیاری بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے جب کہ حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد کی رمضان میں اپنی ایک منفرد رونق ہوتی ہے ۔ رمضان کی آمد کے ضمن میں آج جب مکہ مسجد میں رمضان ترقیاتی کاموں کا مختلف سرکاری محکموں اور عہدیداروں نے جائزہ لیا تو گذشتہ برس 2 کروڑ روپئے کے ترقیاتی کام جس میں سمپ کی تعمیر ، حوض اور مسجد کی چھت میں لیکیج کے علاوہ دیواروں کی کیمیائی صفائی کے کام نمایاں شامل ہیں ۔ ان تمام پراجکٹ کے ناکام اور نا مکمل ہونے کے بعد عہدیداروں نے کہا کہ تمام ترقیاتی کام یکسر ناکام ہوچکے ہیں ۔ مکہ مسجد میں رمضان کے ضمن میں ترقیاتی کاموں کے لیے آج تمام محکموں جیسے بلدیہ ، واٹر ورکس ، برقی ، آثار قدیمہ ، میناریٹی ویلفیر ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے معائنہ کیا ۔ ان محکموں کے عہدیداروں میں جی ایچ ایم سی ساوتھ زون کمشنر مسٹر بالا سبرامنیم ریڈی ، سپرنٹنڈنٹ آرکیالوجی اے پی اسٹیٹ مسٹر آر کرشنیا ، جی ایم واٹر ورکس مسٹر وینکٹ رام ، ڈی ایم ڈبلیو مسٹر ایس سورج ، ڈپٹی ڈائرکٹر میناریٹی کمشنریٹ مسٹر دامودر ریڈی ، مکہ مسجد کے سپرنٹنڈنٹ خواجہ نعیم الدین اور مینجر عبدالمنان شامل تھے جنہوں نے 2 برس قبل مصلیوں کو پانی کی قلت کے مسئلے سے چھٹکارہ دلانے کے لیے ایک کروڑ 30 لاکھ روپئے مالیاتی زیر زمین سمپ کا معائنہ کیا جو کہ بالکل ناکام ہوچکے ہیں ۔ 5 لاکھ لیٹرس پانی کی گنجائش والے اس سمپ کی تیاری میں انجینئرس کی نا اہلیت سامنے آنے کے علاوہ غیر معیاری کام بھی شدید تشویش کا باعث ہے ۔ سمپ کی تعمیر کے لیے منظورہ ایک بڑے بجٹ کی رقم کے خرچ کیے جانے کے طریقوں پر سوال اٹھائے جارہے ہیں ۔ زیر زمین سمپ کے علاوہ مکہ مسجد کے حوض میں لیکیج کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے 3 برس قبل کام کا آغاز ہوا تھا اور اس کام کے لیے 8 لاکھ روپئے منظور ہوئے تھے ۔ مکہ مسجد کے حوض میں پانی کا لیکیج ہے اور اس اندرونی لیکیج کی وجہ سے 15 دن مسلسل پانی کی سربراہی کے باوجود بھی یہ حوض پر نہیں ہوتا ہے لیکن 8 لاکھ روپئے منظور ہونے کے باوجود حوض کے لیکیج کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے ۔ حوض کے علاوہ مکہ مسجد کی چھت سے بھی پانی ٹپکنے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے محکمہ آثار قدیمہ کی توجہ اس جانب دلوائی گئی تھی اور آثار قدیمہ نے اس کام کے لیے 8 لاکھ روپئے منظور کئے تھے تاہم اس کام کے لیے بھی غیر معیاری طریقہ اختیار کیا گیا جس کی وجہ سے مکہ مسجد کی چھت سے ابھی بھی پانی ٹپکنا برقرار ہے ۔ علاوہ ازیں مکہ مسجد کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اس کی در و دیوار کی دیکھ بھال کے تحت دیواروں کی کیمیائی صفائی کے لیے 37 لاکھ روپئے منظور کئے گئے تھے لیکن دیواروں کی موجودہ حالت کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کبھی اس کی کیمیائی صفائی ہوئی ہی نہیں ہے ۔ مختلف محکموں کے اعلیٰ عہدیداروں اور مکہ مسجد کے ارباب مجاز نے آج کے معائنہ اور اجلاس کے بعد میڈیا کے سخت سوالوں کے جواب میں لب کشائی سے گریز کیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پہلے ہی حکومت بڑی مشکل سے اقلیتوں اور خصوصا مساجد کی ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں کے لیے بجٹ منظور کرتی ہے تو پھر کس طرح مکہ مسجد کے اہم امور کے لیے غیر معیاری کام کی انجام دہی اور کس طرح نا اہل انجینئرس کی خدمات حاصل کی گئی اور جب کام ادھورے اور ناکام ہوچکے ہیں تو پھر بھاری بجٹ کی رقومات کہاں گئیں ۔ بھاری بجٹ کے ان پراجکٹس کے غیر معیاری کاموں میں شفافیت دیکھائی نہیں دیتی جس کی اعلیٰ سطح تحقیقات ہونی چاہئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT