Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد و شاہی مسجد کے ملازمین کو تنخواہوں کیلئے بجٹ کی ہنوز عدم اجرائی

مکہ مسجد و شاہی مسجد کے ملازمین کو تنخواہوں کیلئے بجٹ کی ہنوز عدم اجرائی

ڈپٹی چیف منسٹر کی ہدایت کے باوجو د تنخواہوں کا مسئلہ تعطل کا شکار ۔ ملازمین میں مایوسی کی لہر
حیدرآباد۔/27 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی سے متعلق احکامات کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود بجٹ کی اجرائی میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ ایک طرف مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین ستمبر کی تنخواہ سے محروم ہیں جبکہ مکہ مسجد میں سیکوریٹی خدمات انجام دینے والے ہوم گارڈز کو دو ماہ کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔ اسی طرح شاہی مسجد کا ایک سیکوریٹی ملازم گزشتہ 18ماہ سے تنخواہ سے محروم ہے۔ جاریہ سال بجٹ میں دونوں مساجد کے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے علحدہ رقم کی منظوری نہ ہونے کے سبب محکمہ کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اس سلسلہ میں ’’ سیاست‘‘ میں شائع شدہ رپورٹس کے بعد اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ ملازمین کی تنخواہوں کی فی الفور اجرائی کو یقینی بنائیں اور ضرورت پڑنے پر دوسرے مد سے رقم حاصل کرتے ہوئے تنخواہیں ادا کی جائیں۔ حکومت نے 3 اکٹوبر کو دونوں مساجد کیلئے ایک کروڑ روپئے کا بجٹ جاری کیا لیکن 25دن گذرنے کے باوجود آج تک یہ رقم اقلیتی بہبود کے اکاؤنٹ میں نہیں پہنچی جس کے باعث دونوں مساجد کے ملازمین میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ محکمہ فینانس کی جانب سے بجٹ کی اجرائی میں تاخیر کے سبب اقلیتی بہبود کے عہدیدار بھی خود کو بے بس محسوس کررہے ہیں۔ دونوں مساجد کے ملازمین اور ہوم گارڈز کو سابق میں 3 ماہ تک تنخواہوں کیلئے انتظار کرنا پڑا تھا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ہر ماہ کی تنخواہ مقررہ وقت پر ادا کرنے کی ہدایت دی جس کے بعد ایک کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا تاہم رقم اکاؤنٹ میں جمع نہ ہونے کے سبب ملازمین کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ 18ماہ سے تنخواہوں سے محروم شاہی مسجد کا ملازم عہدیداروں کی ہمدردی کا منتظر ہے لیکن کسی بھی عہدیدار نے اس سے ربط قائم کرتے ہوئے زبوں حالی کے بارے میں دریافت نہیں کیا۔ اقلیتی بہبود کے ذرائع نے بتایا کہ مختلف وجوہات کا بہانہ بناکر محکمہ فینانس رقم جاری کرنے سے گریز کررہا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے صرف یہ تیقن دیا گیا کہ عنقریب بجٹ جاری کیا جائے گا۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے تعطیلات کی کثرت نے بجٹ کی اجرائی میں رکاوٹ پیدا کردی۔ اگر مزید ایک ہفتہ تک بجٹ اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوا تو دونوں مساجد کے ملازمین دو ماہ اور ہوم گارڈز تین ماہ کی تنخواہ سے محروم ہوجائیں گے۔ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں کو دیگر اسکیمات پر تیز رفتار عمل آوری کے ذریعہ حکومت کی ستائش حاصل کرنے کی فکر اور اس کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ جاری ہے لیکن انہیں غریب ملازمین کی کسمپرسی کی کوئی فکر نہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے فائیل طویل عرصہ سے حکومت کے پاس منظوری کی منتظر ہے لیکن عہدیدار اس کی منظوری حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں ملازمین ماہانہ ساڑھے سات ہزار روپئے سے کس طرح خاندان کی پرورش کرپائیں گے۔ دونوں مساجد کے ملازمین نے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے اُمید وابستہ کی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں خصوصی دلچسپی لے کر ان کی معاشی پریشانی کو دور کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT