مکہ مسجد کا تقدس خطرہ میں ، محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار بے فکر

شام کے وقت لڑکے اور لڑکیوں کا سیاحوں کے بھیس میں گارڈن کی طرح استعمال

شام کے وقت لڑکے اور لڑکیوں کا سیاحوں کے بھیس میں گارڈن کی طرح استعمال
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اگست (سیاست نیوز) شہر کی تاریخی مکہ مسجد کی نگہداشت اور بد انتظامی کے بارے میں یوں تو وقفہ وقفہ سے اخبارات توجہ دلاتے رہے ہیں لیکن اب تو مسجد کا تقدس بھی خطرہ میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے ۔ مزید یہ کہ حکام اور محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو مسجد کے تقدس کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں جس کے نتیجہ میں وہاں کچھ اس طرح کی سرگرمیاں جاری ہیں، جس سے مسجد کا تقدس پامال ہورہا ہے۔ مسجد کے ذمہ داروں کی ملی بھگت کے ذریعہ ملازمین اور ہوم گارڈس اس صورتحال کیلئے ذمہ دار ہیں۔ شام کے اوقات میں مسجد میں سیاحوں کے بھیس میں لڑکے ، لڑکیاں پہنچ کر مسجد کو کسی گارڈن کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ملازمین اور ہوم گارڈس کی ملی بھگت کے سبب مسجد کے اندرونی حصہ میں مختلف اشیاء کی فروخت کی اجازت دی جارہی ہے ۔ ان تمام سرگرمیوں کے لئے باقاعدہ کلکشن بھی کیا جارہا ہے۔ مقامی افراد نے اس طرح کی سرگرمیوں کے سلسلہ میں مسجد میں موجود سی سی کیمروں کے بعض فوٹیج ریکارڈ کرلئے ہیں جنہیں اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو پیش کیا جائے گا ۔ ان فوٹیجس میں مسجد کے ملازمین کو کاروبار کرنے والوں سے رقومات حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک اور فوٹیج میں ہوم گارڈ ایک نوجوان کی پٹائی کرتے ہوئے اس سے رقم حاصل کر رہے ہیں۔ مقامی افراد نے شکایت کی کہ مسجد کے ذمہ داروں کی ملی بھگت کے ذریعہ ہوم گارڈ اور واچ مین اس طرح کی سرگرمیاں چلا رہے ہیں جس سے مسجد کا تقدس پامال ہورہا ہے۔ مسجد میں واقع لائبریری اور دینی مدرسے والے حصہ میں جہاں بہت کم آمد و رفت ہوتی ہے، وہ علاقہ عاشقی کا مرکز بن چکا ہے اور ہوم گارڈس جان بوجھ کر ان سرگرمیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ مسجد کے اندرونی حصہ میں غیر مسلم افراد کے داخلہ کی اجازت نہیں اور وہاں بورڈ بھی نصب کیا گیا ہے لیکن غیر ملکی سیاحوں اور دولت مند افراد کو جن کا تعلق دیگر مذاہب سے ہے، مسجد کے ملازمین ممبر اور محراب تک لے جارہے ہیں اور انہیں وہاں تصویر کشی اور ویڈیو گرافی کی بھی اجازت دی جارہی ہے۔ اس کیلئے وہ سیاحوں سے بھاری رقومات وصول کرتے ہیں۔ مقامی افراد نے بتایا کہ مسجد کے اندرونی حصہ میں فقیروں کو بیٹھنے کیلئے بھی ان سے پیسہ وصول کیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ سیاحوں کے سامان کی نگرانی اور مسجد کے سامنے کاروبار کرنے والی بنڈیوں حتیٰ کہ پارک کئے گئے آٹو اور ٹو وہیلرس سے کلکشن کیا جارہا ہے۔ مقامی افراد نے ان سرگرمیوں کے بارے میں بارہا حکام کی توجہ مبذول کرائی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ مقامی افراد نے شکایت کی کہ کلکشن میں حصہ داری کے سبب حکام خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ مسجد میں سپرنٹنڈنٹ اور مینجر تو موجود ہیں لیکن سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد کے بجائے ڈی ایم ڈبلیو آفس واقع حج ہاؤز میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ خاص طور پر فجر کے وقت مسجد میں کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور موذن بھی مستقل غائب رہتے ہیں اور نماز کے وقت کی بھی پابندی نہیں کی جاتی۔ اس سلسلہ میں مقامی افراد نے سکریٹری اقلیتی بہبود اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود سے نمائندگی کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT