Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد کی مخدوش حالت ، اطراف و اکناف ناجائز تعمیرات

مکہ مسجد کی مخدوش حالت ، اطراف و اکناف ناجائز تعمیرات

مسجد کی تاریخی اہمیت برقرار رکھنے پر زور ، سرکردہ شخصیتوں کا اظہار تشویش
حیدرآباد۔17اگسٹ (سیاست نیوز) مکہ مسجد کی مخدوش حالت اور اطراف و اکناف میں جاری ناجائز قبضہ جات و تعمیرات مکہ مسجد کی تاریخی اہمیت کو ختم کرنے کا موجب بننے لگے ہیں اور مکہ مسجد کی تاریخی اہمیت کی برقراری کیلئے فوری توجہ دیتے ہوئے مرمتی کاموں کا آغاز کیاجانا چاہئے۔ شہر حیدرآباد کے تاریخی و تہذیبی ورثہ میں انتہائی اہمیت کی حامل اس عمارت کی مرمت کے کاموں کے آغاز کیلئے محکمہ آثار قدیمہ کو کنٹراکٹرس دستیاب نہیں ہیں ۔ شہر حیدرآباد کی سرکردہ شخصیات جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن پارلیمنٹ ‘ کیپٹن ایل پانڈو رنگا ریڈی ‘ ڈاکٹر کے چرنجیوی‘مولانا سید طارق قادری ‘ جناب ضیاء الدین نیر‘محترمہ جسوین جئے رتھ ‘ محترمہ سارہ میتھیوز‘ محترمہ لبنی ثروت‘ جناب عبداللہ سہیل‘ جناب عثمان بن محمد الہاجری‘ جناب محمد غوث سابق کارپوریٹر‘معراج محمد سابق کارپوریٹر‘ محمد معراج خان‘ جناب عبدالقدوس غوری‘ جناب الیاس شمسی‘ جناب شکیل ایڈوکیٹ‘ جناب مقبول الہاجری کے علاوہ کئی اہم شخصیتیں موجود تھیں۔ سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد جناب عبدالقدیر صدیقی نے بتایا کہ انہیں محکمہ آثار قدیمہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ ٹنڈر طلب کئے جانے کے باوجود تاحال کوئی کنٹراکٹر مرمتی کاموں کے لئے رجوع نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ کو مرمتی کاموں کے لئے کنٹراکٹرس دستیاب نہیں ہیں تو محکمہ اقلیتی بہبود کچھ نہیں کر سکتا ۔جناب محمد غوث اور جناب عثمان الہاجری نے مسجد کے مسائل سے دورہ کرنے والوں کو واقف کروایا۔ جناب سید عزیز پاشاہ ‘ کیپٹن ایل پانڈو رنگا ریڈی ‘ ڈاکٹر کے چرنجیوی‘جناب عبداللہ سہیل‘ لبنی ثروت ‘ سارہ میتھیوز‘ جسوین جئے رتھ نے تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے علاوہ سال گذشتہ مکہ مسجد کیلئے مختص کئے گئے بجٹ کے اخراجات کے متعلق وائٹ پیپر جاری کیا جائے۔ دورہ کرنے والوں نے حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود سے مطالبہ کیا کہ فوری اقدامات کرتے ہوئے مسجد کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے یہ ادعا کیا جا رہا ہے کہ مسجد کے مرمتی کاموں کیلئے 8کروڑ روپئے جاری کئے جا چکے ہیں لیکن ابھی تک مرمتی کاموں کا آغاز نہ ہونے اور مسجد کی مرکزی عمارت کی حالت بتدریج ہونے کے باعث عوامی تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد نے بتایا کہ مکہ مسجد سے متصل مہاجرین کیمپ میں غیر قانونی قابضین ہیں اور انہیں ہٹانے کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود و متعلقہ محکمہ جات کو رپورٹ روانہ کردی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس جگہ پر موجود خاندانوں کا تخلیہ کرواتے ہوئے اس جگہ مسجد کیلئے پارکنگ کی جگہ فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔جناب محمد غوث نے بتایا کہ زائد از 160مکین اس جگہ کا کرایہ ادا کر رہے ہیں اور انہیں قابضین قرار دیتے ہوئے مسجد کی مرکزی عمارت کی ابتر صورتحال سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جناب سید عزیز پاشاہ و دیگر ذمہ داروں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ کے اعلی عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے فوری مرمتی کاموں کے آغاز کے علاوہ مسجد کے اطراف سیاسی سرپرستی میں جاری تعمیری کاموں کو روکنے کیلئے نمائندگی کی جائے گی۔ محترمہ لبنی ثروت اور جسوین جئے رتھ نے مکہ مسجد کے اندرونی حصوں میں محکمہ آثار قدیمہ کے ماہرین سے مشاورت کے بغیر محکمہ آبرسانی اور بلدیہ کے کنٹراکٹرس کی جانب سے تعمیراتی کاموں کی انجام دہی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران اس تاریخی اثاثہ کو تباہ کرنے کی کوشش میں ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT