Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد کے آصف جاہی سلاطین کے مقبروں اور آثار شریف کو خطرہ

مکہ مسجد کے آصف جاہی سلاطین کے مقبروں اور آثار شریف کو خطرہ

مدرسہ حفاظ بھی غیر محفوظ ، عوام میں تشویش ، محکمہ اقلیتی بہبود اور آثار قدیمہ کی لاپرواہی
حیدرآباد۔18اگسٹ (سیاست نیوز) مکہ مسجد کی مرکزی عمارت ہی نہیں بلکہ آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کے علاوہ آثار شریف کا گوشہ اور مدرسہ حفاظ کی حالت بھی انتہائی خستہ ہوچکی ہے اور اس مسئلہ پر عرصہ دراز سے توجہ دہانی کو ممکن بنایا جا رہا ہے ۔ مصلیان مکہ مسجد و ذمہ داران کی جانب سے متعدد مرتبہ منتخبہ نمائندوں کو توجہ دہانی کے بعد اس مسئلہ کو ذرائع ابلاغ اداروں سے رجوع کیا گیا ۔ اسی طرح مکہ مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں کے مسئلہ میں جب تک ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے توجہ نہیں دلوائی جاتی اسی طرح مسجد کی تاریخی عمارت کے مسئلہ میں بھی رویہ اختیار کیا گیا تھا ۔ مکہ مسجد میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی کا مسئلہ ہر وقت تعطل کا شکار رہتا ہے اور محکمہ کی جانب سے ان کی تنخواہیں وقت پر نہ ادا کئے جانے کی شکایت معمول کی بات بن چکی تھی لیکن مسجد کی مرکزی عمارت کی چھت اور دیواروں کی حالت کے متعلق حقائق کو منظر عام پر لانے پر چراغ پا ہونے والے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ خود صورتحال کا جائزہ لیں ابتداء میں مکہ مسجد کے صحن میں موجود آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کی چھت گرنے لگی تھی لیکن 2سال قبل مکہ مسجد کی مرکزی عمارت کی شمال ۔مغربی گنبد کے اندرونی حصہ میں گچی گرنے لگی تاہم اب اسی شمال مغربی دیوار کے پتھروں سے پانی رسنے لگا ہے اور پتھروں کے درمیان مضبوطی ختم ہونے لگی ہے ۔ دو برس تک اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہنے کا یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ اب جنوب۔مغربی گنبد کے اندرونی حصہ میں بھی گچی گرنے لگی ہے اور اگر فوری طور پر مسئلہ کو حل کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں توایسی صورت میں اس حصہ کو بھی اس گوشہ کی طرح عوام کیلئے بند کرنا پڑے گا جس طرح شمال مغربی گوشہ کے ساتھ آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کے حصہ کو عوام اور مصلیوں کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ مسجد کی مرکزی عمارت کے دو حصوں میں یہ صورتحال پیدا ہونا محکمہ اقلیتی بہبود کی ہی نہیں بلکہ محکمہ آثار قدیمہ کی بھی صریح لاپرواہی ہے۔ مکہ مسجد آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تہذیبی ورثہ کی فہرست میں شامل نہیں ہے لیکن ریاست تلنگانہ کے تہذیبی ورثہ اور تاریخی عمارتوں کی فہرست میں سر فہرست مقام رکھتی ہے اس کے باوجود اس عمارت کو ہونے والے نقصانات پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے یہ کہا جانا کہ نئے جائے نمازوں کا انتظام کیا جا رہاہے ‘ بارش کے موسم میں مصلیوں کے لئے ٹین شیڈ ڈالے جا رہے ہیں‘ پانی کا انتظام کیا جارہا ہے تو اس میں عمارت کے تحفظ کیلئے کونسا عمل ہے کوئی جواب نہیں دیا جا رہاہے بلکہ حقیقی مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار ہوں یا منتخبہ عوامی نمائندہ وہ عمارت کے تحفظ کے سلسلہ میں وضاحت کرنے کے بجائے یہ کہہ رہے ہیں کہ مکہ مسجد کے امور بخوبی انجام دیئے جارہے ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ مکہ مسجد کے مرمتی کاموں کیلئے 4کروڑ 61لاکھ کا ٹنڈر لکشمی ہیری کان پرائیویٹ لمیٹیڈ کو تفویض کیا گیا ہے اور کمپنی کی جانب سے مرمتی کاموں کے آغاز و ترجیحات کا جائزہ لیا جارہاہے۔ اس ٹنڈر کی حوالگی کے عمل کی تکمیل کے متعلق عہدیداروں نے بتایا کہ 16اگسٹ کو ہی اس کی شروعات کی گئی ہے اور مرکزی کمانوں کے کام کے سلسلہ میں یہ ٹنڈر ہے ۔ مسجد کی مرکزی عمارت کے علاوہ مسجد کے صحن میں موجود آصف جاہی سلاطین کے مقبروں ‘ آثار شریف کے گوشہ کے علاوہ مدرسہ حفاظ کے تحفظ کیلئے آواز اٹھانا ہر اس شہری کی ذمہ داری ہے جو شہر حیدرآباد کے تاریخی ورثہ کے تحفظ اور مسجد کے تقدس کی برقراری کا متمنی ہے۔

TOPPOPULARRECENT