Saturday , December 15 2018

مکہ مسجد کے خطیب و امام کیلئے موزوں شخصیت کا عدم تقرر

مولانا حافظ رضوان قریشی گذشتہ ایک سال سے ہدیہ کے بغیر خدمات انجام دے رہے ہیں

مولانا حافظ رضوان قریشی گذشتہ ایک سال سے ہدیہ کے بغیر خدمات انجام دے رہے ہیں
حیدرآباد ۔ 17 جون (سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد میں ستمبر 2013ء سے مستقل خطیب کا تقرر نہیں ہے جس کے باعث امام مکہ مسجد مولانا حافظ رضوان قریشی عارضی طور پر بلا ہدیہ خطیب و امام کی زائد ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔ مکہ مسجد میں خطیب کے تقرر کے مسئلہ پر گذشتہ ایک برس کے دوران حکومت سے متعدد مرتبہ صحافتی گوشوں کی جانب سے نمائندگی کے باوجود اس اہم ذمہ داری پر مستقل تقرر کے متعلق برتی جانے والی لاپرواہی سے ایسا محسوس ہوتا ہیکہ سرکاری محکمہ جات کو مکہ مسجد کے خطیب و امام کے عہدہ پر کسی موزوں شخصیت کی تقرری میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مصباح القراء حضرت علامہ مولانا حافظ عبداللہ قریشی الازہری سابق خطیب و امام مکہ مسجد نے ستمبر 2013ء میں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی کا اعلان کرتے ہوئے حکومت اور ارباب مجاز سے اس بات کی اپیل کی تھی کہ وہ خطیب و امام کے اہم عہدہ پر موزوں شخص کے انتخاب کو یقینی بنائیں اور ان کی ناسازی صحت کے باعث مولانا حافظ رضوان قریشی بہتر انداز میں خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں مستقل طور پر مقرر کیا جائے۔ مولانا کی اس اپیل کے باوجود تاحال اس مسئلہ کو حل نہیں کیا گیا بلکہ نماز جمعہ کے موقع پر مولانا حافظ رضوان قریشی بدستور اپنی زائد ذمہ داریوں کو انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو بھی واقف کروایا لیکن اس مسئلہ پر شاید محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اسی لئے شہر کی اس اہم ترین مسجد جسے ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی بارہا شاہی مسجد قرار دینے کا اعلان کررہے ہیں اس مسجد میں خطیب و امام کا مستقل تقرر بھی نہیں ہے۔ مکہ مسجد کی مخلوعہ جائیدادوں میں نہ صرف خطیب کا عہدہ خالی ہے بلکہ اس کے علاوہ دیگر 8 جائیدادیں مخلوعہ ہیں جن پر تقررات کئے جانے ہیں جن میں 6 جاروب کش، ایک اسٹور کیپر کے علاوہ ایک خاکروب کا عہدہ شامل ہے۔ ماہ رمضان المبارک سے قبل اگر ان عہدوں پر تقررات یقینی نہیں بنائے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں مصلیوں کیلئے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے چونکہ خطیب و امام کا تقرر تو اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے ہی لیکن دیگر عہدے جو بظاہر غیراہم نظر آرہے ہیں لیکن ان کی اپنی اہمیت علحدہ ہے۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران افطار کے فوری بعد مسجد کے مکمل صحن کی فوری صفائی ناگزیر ہوتی ہے چونکہ افطار کے بعد جو کچرا وغیرہ ہوتا ہے اسے نماز عشاء سے قبل صاف کیا جانا ضروری ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ماہ مبارک کے دوران مصلیوں کی آمد میں اضافہ کے سبب بیت الخلاء وغیرہ میں گندگی بھی بڑھ جاتی ہے اور خاکروب کی عدم موجودگی مزید مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ حکومت بالخصوص محکمہ اقلیتی بہبود کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اس سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے مستقل خطیب و امام کے تقرر کے احکامات کے ساتھ ساتھ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے احکامات جاری کریں تاکہ ماہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

TOPPOPULARRECENT