Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد کے لیے ریٹائرڈ پولیس عہدیدار کا تقرر ، ائمہ کرام نظر انداز

مکہ مسجد کے لیے ریٹائرڈ پولیس عہدیدار کا تقرر ، ائمہ کرام نظر انداز

مہاجرین کیمپ کے کرایہ میں بے قاعدگیاں ، جامع تحقیقات کی ضرورت
سیاست کی خبر کا اثر

حیدرآباد ۔ 16 ۔ ڈسمبر (سیاست  نیوز) مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے امور کے بارے میں روزنامہ سیاست کی جانب سے رپورٹ کی اشاعت کے فوری بعد محکمہ اقلیتی بہبود بیدار ہوگیا۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے مکہ مسجد کے سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے ایک ریٹائرڈ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس رتبہ کے عہدیدار کو مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ شاہی مسجد کے موجودہ مینجر کی میعاد میں ایک سال کی توسیع دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ روزنامہ سیاست نے دونوں مساجد کے امور میں مبینہ بے قاعدگیوں اور ائمہ سمیت سپرنٹنڈنٹس کی میعاد میں عدم توسیع سے متعلق 15 ڈسمبر کو رپورٹ شائع کی تھی ۔ اس سے قبل بھی سیاست نے مکہ مسجد کے مہاجرین کیمپ کے کرایہ کی وصولی اور رقم میں مبینہ تغلب کے بارے میں رپورٹ شائع کی تھی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے آج جی او آر ٹی 222جاری کرتے ہوئے مسٹر ایم اے قدیر صدیقی ریٹائرڈ ڈی ایس پی کو فوری اثر کے ساتھ سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد مقرر کیا ہے ۔ ایم اے قدیر صدیقی نے 18 ستمبر کو حکومت کو درخواست دی تھی کہ انہیں محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات کا موقع فراہم کیا جائے ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے درخواست کو قبول کرتے ہوئے فوری اثر کے ساتھ سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد مقرر کیا اور فوری جائزہ حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک اور جی او 221 جاری کرتے ہوئے خواجہ نعیم الدین کی خدمات سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے فوری اثر کے ساتھ ختم کردی گئی ہے۔ انہیں گزشتہ سال سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے میعاد میں توسیع دی گئی تھی ۔ جی او میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کیمپ کے کرایہ کی وصولی میں کئی بے قاعدگیوں کی شکایات موصول ہوئی اور اس سلسلہ میں سپرنٹنڈنٹ حکومت کو اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر رہے ۔

لہذا ان کی خدمات کو فوری اثر کے ساتھ  ختم کردیا گیا ہے ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے جی او آر ٹی 220 کے ذریعہ یوسف خاں مینجر شاہی مسجد باغ عامہ کی میعاد میں ایک سال کی توسیع کی ہے۔ وہ ماہانہ 10900 روپئے مشاہرہ پر 5 اگست 2016 ء تک اس عہدہ پر برقرار رہیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مکہ مسجد کے دو ائمہ کی میعاد بھی ختم ہوگئی لیکن محکمہ اقلیتی بہبود نے ان کی میعاد میں توسیع کے احکامات جاری نہیں کئے۔ حالانکہ وہ زیادہ مستحق ہیں۔ مکہ مسجد کے نائب امام اور خطیب چند ماہ سے تنخواہ کے بغیر فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ ایک امام کی میعاد گزشتہ ماہ ختم ہوئی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے مہاجرین کیمپ کے مکانات اور ملگیات کے کرایوں کے سلسلہ میں پانچ لاکھ روپئے سے زائد کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی تھی لیکن صرف ایک شخص کے خلاف کارروائی کی گئی۔ حالانکہ دوسرے افراد کی ملی بھگت کے بغیر یہ بے قاعدگی ممکن نہیں تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کی سفارش پر صرف ایک شخص کو نشانہ بنایا گیا۔ اب جبکہ حکومت نے ریٹائرڈ ڈی ایس پی کو مسجد کا سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بے قاعدگیوں کی جانچ کرائی جائے اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جو فرائض میں غفلت اور بھاری رقم کے بیجا استعمال کے ذمہ دار ہیں ۔ دوسری طرف شاہی مسجد کے مینجر کو جن کا تعلق تلنگانہ سے نہیں ہے، میعاد میں توسیع دیئے جانے پر تلنگانہ کے ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کو چاہئے کہ وہ شاہی مسجد کے تحت اراضی کا تحفظ کرے جو محکمہ ہارٹیکلچر کے قبضہ میں ہے اور اس اراضی سے عارضی مندر کی برخواستگی کو یقینی بنایا جائے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT