Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / مکہ مسجد کے مرمتی کاموں پر اعلی سطحی اجلاس، کنٹراکٹر کی سرزنش، رمضان تک کاموں کی تکمیل کی ہدایت

مکہ مسجد کے مرمتی کاموں پر اعلی سطحی اجلاس، کنٹراکٹر کی سرزنش، رمضان تک کاموں کی تکمیل کی ہدایت

حیدرآباد۔ 12اپریل (سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کی چھت کے تعمیری کاموں کے سلسلہ میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی لاپرواہی اور کاموں کی سست رفتاری کے سلسلہ میں سیاست کی رپورٹ کا عہدیداروں پر اثر ہوا ہے۔ روزنامہ سیاست نے مورخہ 12 اپریل کو تعمیری کاموں میں تساہل اور چھت کو ہونے والے نقصانات پر رپورٹ شائع کی تھی۔ کنٹراکٹر اور آرکیالوجیکل سروے کے عہدیداروں میں تال میل کی کمی اور رقم کی ادائیگی پر اختلافات کا تعمیری کاموں پر اثر ہوا۔ گزشتہ چھ ماہ میں چھت کے مرمتی کاموں میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی اور آرکیالوجیکل سروے کے عہدیدار وقتاً فوقتاً کام کی نگرانی سے گریز کررہے ہیں۔ سیاست کی رپورٹ کے ساتھ ہی حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خان نے آج اعلی سطحی اجلاس طلب کیا جس میں سکریٹری اقلیتی بہبود دانا کشور، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہ نواز قاسم آئی پی ایس، ڈپٹی ڈائرکٹر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا، کنٹراکٹر اور کنسلٹنٹ نے شرکت کی۔ کاموں میں تاخیر کی وجوہات کے بارے میں پوچھے جانے پر کنٹراکٹر نے بتایا کہ آرکیالوجیکل سروے کی جانب سے وقتاً فوقتاً ٹیکنیکل اپروول میں تاخیر کی جارہی ہے اس کے علاوہ رقم کی ادائیگی میں تاخیر کے سبب ورکرس کام کرنے تیار نہیں۔ واضح رہے کہ 2 کروڑ روپئے آرکیالوجیکل سروے کو جاری کیے گئے لیکن بتایا جاتا ہے کہ کنٹراکٹر کو 80 لاکھ روپئے جاری ہوئے ہیں۔ اے کے خان نے رمضان المبارک تک چھت کی تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ رمضان المبارک کے دوران تعمیری کام انجام نہیں دیئے جاسکتے۔ کنٹراکٹر کو ہدایت دی گئی کہ وہ رات کے اوقات میں بھی زائد ورکرس کی خدمات حاصل کی جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کنٹراکٹر بنگلور سے تعلق رکھتا ہے اور وہ زیادہ تر حیدرآباد کے باہر مصروف ہے۔ لہٰذا وہ مسجد کے کاموں کی نگرانی سے قاصر ہے۔ کنٹراکٹر کو ہدایت دی گئی کہ وہ کام کی تکمیل تک زیادہ تر وقت حیدرآباد میں گزاریں۔ اجلاس میں رقومات کی ادائیگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے کہا کہ مکہ مسجد کے کاموں کے سلسلہ میں ہر ہفتہ جائزہ اجلاس طلب کیا جائے گا اور تاخیر کی صورت میں کنٹراکٹر کو بلیک لسٹ کیا جاسکتا ہے۔ مرمتی کاموں کے سلسلہ میں حکام کی لاپرواہی پر سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد نے حکومت کو تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔ آرکیالوجیکل سروے نے کام کو مختلف کنٹراکٹرس میں منقسم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی مداخلت اور عہدیداروں کی جانب سے سرزنش کے بعد آج سے کاموں میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT