Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مکہ مکرمہ میں حیدرآبادی رباط میں قیام کے مسئلہ کی جلد یکسوئی

مکہ مکرمہ میں حیدرآبادی رباط میں قیام کے مسئلہ کی جلد یکسوئی

حج کوٹہ میں مزید اضافہ ممکن ، اسکالر شپس کی اجرائی ، جناب سید عمر جلیل کی پریس کانفرنس

حج کوٹہ میں مزید اضافہ ممکن ، اسکالر شپس کی اجرائی ، جناب سید عمر جلیل کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/17اپریل، ( سیاست نیوز ) اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں حیدرآبادی رباط میں قیام کے مسئلہ کی جلد ہی یکسوئی کرلی جائے گی۔ وہ اس مسئلہ پر ناظر رباط اور ایچ ای ایچ دی نظام اوقاف کمیٹی سے بات چیت کریں گے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے عمر جلیل نے کہا کہ گزشتہ سال تنازعہ کے سبب آندھراپردیش کے عازمین رباط میں قیام کی سہولت سے محروم رہ گئے لیکن جاریہ سال اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ تنازعہ کا اندرون پندرہ یوم حل تلاش کرلیا جائے۔ انہوں نے ایچ ای ایچ دی نظام اوقاف کمیٹی کی جانب سے عازمین سے درخواستوں کی طلبی کو جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ جب تک ناظر رباط سے تنازعہ کی یکسوئی نہیں ہوجاتی اس وقت تک اوقاف کمیٹی کو یہ اقدام نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ اوقاف کمیٹی کو حیدرآبادی رباط پر مکمل حق حاصل ہے لیکن ناظر رباط کے تعاون کے بغیر قیام کا مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے اس سلسلہ میں ناظر رباط، کونسل جنرل جدہ اور اوقاف کمیٹی کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ناظر رباط سے بھی اس مسئلہ پر بات کریں گے۔ حج کمیٹی کو کونسل جنرل کی جانب سے ایک مکتوب وصول ہوا جس میں سفارش کی گئی کہ ناظر رباط کو عازمین حج کے انتخاب کا اختیار دیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں توسیعی کام کے سبب گزشتہ سال کے مقابلہ جاریہ سال ہندوستان اور دیگر ممالک کے کوٹہ میں 20فیصد کی کمی کی گئی۔ گزشتہ سال ایک لاکھ 21 ہزار 420 کا کوٹہ مقرر کیا گیا تھا جبکہ جاریہ سال ایک لاکھ 20 کا کوٹہ دیا گیا ہے۔ اس طرح 21400 کی کمی کردی گئی ہے۔ گزشتہ سال خانگی ٹور آپریٹرس کو 14600 کا کوٹہ الاٹ کیا گیا تھا جبکہ جاریہ سال اس میں اضافہ کرتے ہوئے 36ہزار کردیاگیا۔انہوں نے بتایا کہ آندھرا پردیش کے کوٹہ میں مزید اضافہ کا امکان ہے کیونکہ دیگر ریاستوں کو الاٹ کردہ کوٹہ کے مطابق درخواستیں وصول نہ ہونے کی صورت میں اسے آندھرا پردیش کو الاٹ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فی عازم حج کے مصارف کا سنٹرل حج کمیٹی نے ابھی تعین نہیں کیا ہے۔ حج کمیٹی سے تفصیلات کے حصول کے بعد عازمین حج کو پہلی قسط کی ادائیگی کے بارے میں اطلاع دی جائے گی۔ گزشتہ سال عازمین حج کو یوزر ڈیولپمنٹ چارجس میں 50فیصد رعایت سے متعلق پوچھے جانے پر عمرجلیل نے کہا کہ حکومت نے اس سلسلہ میں 74لاکھ روپئے مختص کئے ہیں تاہم انتخابی ضابطہ اخلاق کے سبب یہ رقم جاری نہیں کی گئی۔ انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد محکمہ فینانس یہ رقم جاری کردے گا اور گزشتہ سال کے حجاج کرام میں یوزر چارجس کی 50فیصد رقم واپس کی جائے گی۔ ریاست کی تقسیم کے بعد اقلیتی اداروں کی تنظیم جدید کے بارے میں سوال پر عمر جلیل نے بتایا کہ محکمہ نے حج کمیٹی، اقلیتی کمیشن اور دائرۃ المعارف کو تقسیم نہ کرنے کی سفارش کی ہے تاہم قطعی فیصلہ حکومت کا ہوگا۔ موجودہ حج ہاوز میں حج کمیٹی کا دفتر برقرار رہے گا اور عازمین حج کی روانگی حیدرآباد سے ہی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال اقلیتی بہبود کا بجٹ مکمل طور پر خرچ نہیں کیا جاسکا۔ محکمہ کے مجموعی بجٹ 1027 کروڑ میں سے صرف 672کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اقلیتی طلبہ کے اسکالر شپ کی اجرائی کی اجازت دے دی ہے۔ 2012-13 میں ایک لاکھ 85 ہزار درخواستیں وصول ہوئیں جن میں ایک لاکھ 67ہزار طلبہ کو اسکالر شپ منظور کی گئی۔ ایک لاکھ 58ہزار طلبہ کو رقم جاری کردی گئی۔ مابقی اسکالرشپس کی اجرائی بہت جلد عمل میں لائی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT