Thursday , August 16 2018
Home / شہر کی خبریں / مکہ مکرمہ کرین حادثہ میں زخمی حاجی سرکاری امداد کا منتظر

مکہ مکرمہ کرین حادثہ میں زخمی حاجی سرکاری امداد کا منتظر

24 ماہ بعد بھی کوئی پرسان حال نہیں ، غربت اور کسمپرسی میں سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور
حیدرآباد /22 نومبر ( سیاست نیوز ) مکہ مکرمہ کرین حادثہ میں زخمی تلنگانہ کا حاجی 24 ماہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود سرکاری امداد کا منتظر ہے ۔ غربت اور کسمپرسی کی حالت میں پرانے شہر کے ساکن 40 سالہ شیخ مجیب کو سرکاری محکموں کے چکر کاٹنے پرمجبور کیا جارہا ہے۔ تالاب کٹہ علاقہ کے ساکن مجیب سال 2015 میں حج کمیٹی کی جانب سے اپنی والدہ اور اہلیہ کے ساتھ حج کیلئے گئے تھے ۔ اس سال مکہ مکرمہ میں پیش آئے کرین حادثہ میں مجیب شدید زخمی ہوگئے تھے ۔ ایک سلاخ ان کے پیٹھ کو شاک کرگئی تھی جس کے سبب ان کے جسم کے عضو ( نلی ) کو نکال دیا گیا اور علاج کے بعد وہ اپنے ملک پہونچے اور تاحال سرکاری امداد کے منتظر ہیں ۔ مجیب پر اپنی والدہ کے علاوہ 5 بچوں کی ذمہ داری ہے جو ٹھیلہ بنڈی پر پلاسٹک سامان فروخت کرتے ہوئے اپنی زندگی کا بڑی مشکل سے گذارا کر رہے ہیں ۔ زخمی حاجی مجیب کو انشورنس کی رقم اس وجہ سے نہیں مل سکی چونکہ وہ ظاہری زحمی و معذور نہیں ہیں ۔ جبکہ اندر ہی اندر ان کی صحت دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے ۔ ٹھیلہ بنڈی پر گھوم کر کاروبار کرنے والا یہ غریب حاجی اب ایک جگہ ٹہر نہیں سکتا ۔ سڑک پر کبھی ٹریفک پولیس کو بھی دیگر دوکانداروں کے اعتراض کے سبب اس مجبور شخص کو مشکلات پیش آتی ہے ۔ حج کمیٹی سے نمائندگی کرنے پر اسپیشل آفیسر حج کمیٹی ایس اے شکور نے ان کی فریاد پر سنجیدگی سے غور کیا اور مرکزی حج کمیٹی کو ان کی مدد کیلئے ایک خط بھی روانہ کیا ۔ باوجود اس کے اعلی سطح پر اقدامات اور عدم توجہ سے مجیب کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ مجیب نے بڑی مشکل سے سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل تک بھی رسائی اختیار کی تھی تاہم یہاں اس غریب کو سوائے مایوسی اور عدم توجہ کے کچھ اور مدد نہیں ملی ۔ اس کی درخواست کو دیکھا ان دیکھا اور فریاد کو عملاً نظر انداز کردیا گیا ۔ حالانکہ بیٹے کی مدد کیلئے مجیب کی والدہ بھی اس وقت ہمراہ موجود تھی ۔ لیکن اقلیتی ڈپارٹمنٹ کی سنگ دلی اور معاندانہ رویہ سے مسئلہ طول پکڑتا جارہا ہے ۔ سال 2015 کے کرین حادثہ میں ریاست آندھراپردیش کے دو حاجی شہید ہوئے تھے اور اے پی کی حکومت نے انہیں فی کس تین لاکھ روپئے جاری کرتے ہوئے ان کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جارہی ہے ۔ آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے فوری طور پر اقدامات کئے ۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ ریاست آندھراپردیش کی کابینہ میں ایک بھی مسلم وزیر نہیں ہے اور اقلیتی بہبود کا قلمدان پلے رگھوناتھ ریڈی کے ہاتھوں میں موجود ہے باوجود مالی بحران کے اے پی حکومت نے حاجیوں کو فوری مالی امداد فراہم کردی ۔ جبکہ تلنگانہ میں خود چیف منسٹر مسلمانوں کی بہبود کیلئے مثالی اقدامات کر رہے ہیں ۔لیکن ماتحت عہدیداروں کی مبینہ لاپرواہی اور غیر سنجیدگی سے حکومت کی نیک نامی متاثر ہو رہی ہے ۔ بالخصوص اقلیتی بہبود کے ذمہ دار عہدیداروں کے رویہ سے ایسے حالت پیش آرہے ہیں ۔ حاجی مجیب کو مملکت سعودی عرب سے بھی کوئی امداد حاصل نہیں ہوئی جن سے 5 لاکھ ریال کا اعلان کیا تھا ۔ لیکن کوئی امداد حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ کرین حادثہ کے بعد مجیب 6 دن کنگ عبدالقدیر ہاسپٹل ( مکہ ) اور کنگ فہد ہاسپٹل ( مدینہ ) میں ایک دن موجود تھے لیکن جب وہ حیدرآباد آئے تو انہیں یکسر طور پر نظر انداز کردیا گیا ۔ مجیب کی مدد کیلئے کانگریس قائد واجد حسین نے اقلیتی کمیشن سے مسئلہ کو رجوع کیا تھا اور سرکاری امداد کی کوشش جاری ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ڈبل بیڈروم میں مکان کی فراہمی کے علاوہ علاج کے تمام اخراجات اور دیگر پیشہ کے طور پر رقم جاری کی جائے اور زخمی مجیب کو بہتر طور پر بازآباد کیا جائے اور روزگار کیلئے بہتر موقع فراہم کیا جائے ۔
برقی شٹ ڈاؤن
حیدرآباد ۔ 22 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : اے ڈی ای الیکٹریکل سنٹرل بریک ڈاؤن چارمینار کے بموجب 23 نومبر کو فاطمہ نگر ، فلک نما پیالیس برقی سب اسٹیشنوں کی مرمت اور درستگی عمل میں آئے گی جس کے پیش نظر صبح 10 تا ایک بجے دن فاطمہ نگر ، ہینڈی کیاپ کالونی ، فلک نما پیالیس اور دیگر قریبی علاقوں میں برقی سربراہی مسدود رہے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT