Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / مگرمچھ کے آنسو: یہاں تک کہ زعفرانی کارکن بھی مودی کے ’ گائے کے نام پر تشدد میں اموات‘ کے الفاظ پر ناراض

مگرمچھ کے آنسو: یہاں تک کہ زعفرانی کارکن بھی مودی کے ’ گائے کے نام پر تشدد میں اموات‘ کے الفاظ پر ناراض

’’محافظ کبھی بھی قتل نہیں بن سکتا‘‘
جمعرات کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر کے دوران ہجوم کے حملوں میں ہونے والی بے رحمانہ اموات پر سارے ملک میں تعجب کی لہر دوڑ گئی ہے‘ بشمول زعفرانی کارکنوں کا ماننا ہے کہ بیان کسی قانون ایکشن کے بغیر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کو معمولی نوعیت کے بیان کو طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس سے ناتو اس کے حامیو ں پر کوئی اثرپڑا ہے اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں پر۔

اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ اس کے لئے الفاظ کافی نہیں ہیں گائے کی حفاظت کے نام پر تشدد کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی درکار ہے۔گجرات کے مہاتما گاندھی سابرمتی آشرم میں وزیر اعظم نے کہاتھا کہ’’ گائے کی عقیدت میں لوگوں کو قتل کرنا قبل قبول نہیں ہوگا‘‘۔مزے کی بات تو ہے کہ قبل ازاں سال 2016میں وزیر اعظم کے ’’ گائے کے محافظ دن میں اور غیر سماجی عناصر رات کے وقت‘‘ والے تبصرے کو وشوا ہندو پریشدنے قبل ازایں قبول کرنے سے انکار کردیاتھا۔

اب وی ایچ پی ترجمان ونود بھنسل نے کہاکہ ’’یہ تشدد کے خلاف تھا۔ مگر لوگ گائے کی پوجا کرتے ہیں وہ کسی کی جان نہیں لے سکتے‘‘۔جب ان سے وزیر اعظم کی جانب سے گائے کی حفاظت کے نام پرہجوم کے حملوں میں ہونے والی اموات کے متعلق کئے گئے تبصرے پر پوچھا گیا تو انہوں نے کہاکہ ’’ محافظ کبھی قاتل نہیں بن سکتا‘‘۔بھنسل نے کہاکہ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کے مہاتما گاندھی کی خواہش تھی کہ گائے کی حفاظت کا قانون بنایاجائے۔ انہو ں نے گائے کی حفاظت میں ہونے والی اموات نظم ونسق کی ناکامی ہے۔

ناٹ ان مائی نیم کے عنوان پر ملک کے بڑے شہروں بشمول ملک کی درالحکومت میں چہارشنبہ کے روز احتجاجی مظاہرے پیش ائے جس میں گائے او رمذہب کے نام پر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کیاگیا۔

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے مودی کے موقف پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔راہل گاندھی نے سوشیل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے کہاکہ ’’ بہت مختصر اور بہت تاخیر سے دیاگیا بیان جس میں ان کے خلاف کاروائی کا تصور بھی نہیں دیکھائی دے رہا ہے‘‘۔

ویسٹ بنگال چیف منسٹر ممتا بنرجی نے کہاکہ’’گاؤرکشہ کے نام پر ہلاکتوں کی مذمت میں صرف الفاظ ہی کافی نہیں ہیں۔مودی جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ فوری طور پرہلاکتوں کی روک تھام ضروری ہے‘‘۔ نریندرمودی کی بیان بازی پر مہاتما گاندھی کے پوترے گوپال کرشنا گاندھی نے ایک تبصرے میں کہاکہ’’سابرمتی آشرم میں گاندھی جی کی آتما کی موجودگی ‘‘کا مودی پر ضرور اثر پڑا ہے۔

جو بھی انہوں نے کہاکہ بلکل سچ ہے‘ مگر زمینی سطح پر بھی اس کے خلاف سخت اقدامات درپیش ہیں۔تمام خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے عوام کا بھروسہ( نظم ونسق) میں بہتری لانا ضروری ہے‘‘۔

صدر مجلس اتحاد المسلمین اسدالدین اویسی نے کہاکہ ’’ وزیر اعظم کا بیان لفظی کے علاوہ کچھ نہیں ہے‘‘

TOPPOPULARRECENT