Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / مہاتما گاندھی کو ایک ’چتور بنیا‘قراردیتے ہوئے امیت شاہ نے کہاکہ گاندھی نے کانگریس کا مستقبل پہلے ہی دیکھ لیاتھا

مہاتما گاندھی کو ایک ’چتور بنیا‘قراردیتے ہوئے امیت شاہ نے کہاکہ گاندھی نے کانگریس کا مستقبل پہلے ہی دیکھ لیاتھا

رائے پور:بی جے پی صدر امیت شاہ جو چھتیس گڑ کے تین روز ہ دورے پر ہیں نے ایک قابل ذکر تبصرہ کانگریس پر کیاہے‘ ان کا دعوی ہے کہ مہاتماگاندھی کی زیرقیادت کانگریس پارٹی کا خصوصی مقصد آزادی تھا اور وہ کبھی اصولوں پر مبنی پارٹی نہیں بنی۔

اس جمعہ چھتیس گڑ کی ممتاز شخصیتوں سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہاکہ مہاتماگاندھی کو ’’ بہت چالاک بنیا‘‘ کے لقب سے نوازا اور کہاکہ گاندھی جی کی دوراندیشی نے اس بات کو محسوس کرلیاتھا کہ کانگریس کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور وہ بی جے پی پارٹی ہی تھی جس کی شروعات سے ہی اس اعلان کے ساتھ کہ ’’ جو دیش دورہی نعر ہ لگائے گا‘ وہ دیش دورہی کہلائے گا‘‘واضح پیش قدمی تھی۔

چھتیس گڑہ کے تین روزہ دورے کے دوسرے د ن ریاست میں2018انتخابات سے قبل پارٹی کو مستحکم بنانے کی مہم میں امیت شاہ مصرو ف تھے۔انہوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی کا کوئی نظریہ نہیں تھا جو ایک خصوصی وجہہ کی ایک گاڑی تھی جس کا مقصد آزادی تھا اور تمام علیحدہ نظریات کے لوگ جس می سوشلسٹ ‘ کمیونسٹ اور ہر ایک شامل تھے آزادی کی اس تحریک کا حصہ تھے۔

امیت شاہ نے کہاکہ’’ کانگریس کسی ایک نظریہ اور اصول کی بنیاد پربنی پارٹی ہے ہی نہیں‘ وہ آزادی حاصل کرنے کی ایک گاڑی تھی‘ آزادی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ تھا اور اس لئے مہاتما گاندھی نے دوراندیشی کے ساتھ بہت چتر بنیا تھا وہ اسکو معلوم تھا آگے کیاہونے والاہے ‘اس نے آزادی کے بعد فوری کہاتھا کہ کانگریس کوبکھیر دیناچاہئے۔ مہاتما گاندھی نے نہیں کیامگر لیکن اب کچھ لوگ اس کو بکھیرنے کاکام ختم کررہے ہیں۔

مہاتما گاندھی نے اس لئے ہی کہاتھا کہ کانگریس کی کوئی ائیڈیا لوجی ہی نہیں تھی‘اصول کی بنیاد پر بنی ہوئی پارٹی ہی نہیں تھی‘ دیش چلانے اور سرکاری چلانے کا کوئی اصول ہی ان کے پا س نہیں تھا۔انہوں نے مزیدکہاکہ ’’ وہ ( کانگریس) سونچتی ہے کوئی ایسا کہے گا کوئی ویسا کہے گا ۔ مگر ہم اس معاملے میں الجھن کا شکار نہیں ہیں۔ ہم صاف ہیں’اگر کوئی مخالف ملک نعرے لگاتا ہے تووہ دیش کا غدار کہلایاجائے گا‘‘۔

شام نے اس بات کابھی دعوی کیا کہ ہندوستان کی1650سیاسی تنظیموں میں بی جے پی اور سی پی ائی( ایم) میں صرف دو سیاسی پارٹیاں ہیں جس کے پاس اندرونی ڈیموکرسی ہے۔

TOPPOPULARRECENT