Wednesday , December 13 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مہاجر روہنگیائی مسلمانوں کو ملک میں پناہ دی جائے

مہاجر روہنگیائی مسلمانوں کو ملک میں پناہ دی جائے

کریم نگر میں جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس ، حامد محمد خاں کا خطاب

کریم نگر ۔ 14 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : آج کے ترقی یافتہ دور میں جب کہ کسی بھی واقعہ ، حادثہ کی خبر کو پھیلنے میں پل بھر کی خبر نہیں ہوتی ۔ ایسے میں روہنگیا کے مسلمانوں پر جس طرح کی ظلم و زیادتی ہورہی ہے ۔ ان روہنگیائی مسلمانوں پر جس طرح کے دہلا دینے والے خون کے آنسو بہائے جانے والی انسانیت کو شرمسار کرنے والے ظلم کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ۔ ان حالات سے اپنا سب کچھ کھودے کہ صرف پھٹے پرانے کپڑوں کے ساتھ بھوک و پیاس کی حالت میں جان بچا کر روہنگیائی مسلمان ، ہندوستان میں پناہ لینے کے لیے آچکے ہیں یا آرہے ہیں ۔ ان مظلوموں روہنگیائی مسلمانوں کو غیرقانونی طور سے ہندوستان میں داخل ہونے اور پناہ لینے کے نام پر فوراً ملک بدر کیے جانے کے حکومت کے فیصلہ کو عدالت نے روک لگادی ہے ۔ ہم عدالت کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ حامد محمد خاں نے مانیر گارڈن میں پرنٹ و الکٹرانک میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا کے مسلمانوں کو ناقابل بیان ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔ وہ وہاں سے بھاگ کر بنگلہ دیش اور ہندوستان کا رخ کر کے یہاں داخل ہوئے ہیں ۔ یہ حقیقی مظلوم ہیں ۔ اپنے حقیقی وطن سے لٹ لٹا کر یہاں پناہ لینے کے لیے آئے ہیں ۔ روہنگیائی مسلمان آج ہماری مدد اور ہمدردی کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ انسانیت کے تقاضہ کے مطابق انہیں سہارا دیا جائے ۔ میانمار فوج اور حکومت میانمار کی آزادی سے لے کر اب تک مسلمانوں کی آبادی کو نیست و نابود کرتی چلی آرہی ہے ۔ روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف ہوئی نسل کشی سے ساری دنیا واقف ہوچکی ہے ۔ ہندوستان امن پسند ملک ہے ۔ 1948 میں بنے بین الاقوامی قانونی قاعدے کے مطابق اس طرح کے سنگین حالات و حادثات کا شکار مظلومین کے ساتھ انسانی خدمت کے تحت مدد کی جانی ضروری قرار دی گئی ہے ۔ ہمارے آئین آرٹیکل 21 کے مطابق مہاجرین کی حفاظت ضروری ہے ۔ جماعت اسلامی ہند کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وزیراعظم مودی ، راج ناتھ سنگھ اور قومی انسانی حقوق کمیشن سے بھی ہم نے مطالبہ کیا ہے ۔ 15 ستمبر سے کے سی آر حکومت نے اراضیات کے سروے پروگرام شروع کیا ہے ۔ ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ اس طرح اوقاف کی اراضیات ہیں ۔ ان پر غیرمجاز افراد کا قبضہ ہے ۔ اس کو برخاست کرتے ہوئے اس اراضی کو وقف بورڈ کی تحویل میں دے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے نام پر دھوکہ دیا جارہا ہے ۔ تحفظات کے مسئلہ پر سیاست جاری ہے جب کہ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ فوری تحفظات جاری کئے جائیں ۔ 4 فیصد تحفظات برقرار ہیں ۔ 12 فیصد تحفظات کے نام پر قرار داد منظور کروا کر مرکزی حکومت کے روانہ کر کے خاموشی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔ اس سلسلہ میں کوئی اقدام نہیں کئے جارہے ہیں ۔ اس پریس کانفرنس میں خیر الدین ، محمد عبدالحئی ، شعیب لطیفی ، عبدالفتح لطیفی ، عبدالواحد ، عبدالقادر ، محمد عبدالرقیب ، حامد لطیفی ، شیخ چاند و دیگر موجودتھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT