مہاراشٹرا اور ہریانہ میں انتخابی مہم کا اختتام ۔ کل رائے دہی

نئی دہلی 13 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مہاراشٹرا اور ہریانہ میں 15 اکٹوبر کو ہونے والے انتخابات کیلئے انتخابی مہم آج شام اختتام کو پہونچی ۔ آج شام پانچ بجے مہم کا اختتام ہوا اور اب کوئی انتخابی ریلیاں اور جلسے منعقد نہیں ہوسکتے ۔ انتخابی مہم ک یدوران وزیر اعظم نریندر مودی بھی سرگرم ہوگئے تھے اور لوک سبھا انتخابات میں ملی عوامی تائید کو د

نئی دہلی 13 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مہاراشٹرا اور ہریانہ میں 15 اکٹوبر کو ہونے والے انتخابات کیلئے انتخابی مہم آج شام اختتام کو پہونچی ۔ آج شام پانچ بجے مہم کا اختتام ہوا اور اب کوئی انتخابی ریلیاں اور جلسے منعقد نہیں ہوسکتے ۔ انتخابی مہم ک یدوران وزیر اعظم نریندر مودی بھی سرگرم ہوگئے تھے اور لوک سبھا انتخابات میں ملی عوامی تائید کو دیکھتے ہوئے انہوں نے دونوں ریاستوں میں 30 انتخابی جلسوں کو مخاطب کیا اور یہاں انہوں نے اپوزیشن کو موروثی سیاست اور کرپشن کے مسئلہ پر نشانہ بنایا ۔ چونکہ دونوں ریاستوں میں بی جے پی کے پاس کوئی قد آور قائد نہیں تھا ایسے میں پارٹی نے صرف نریندر مودی کی مہم پر انحصار کیا ۔ خاص طور پر مہاراشٹرا پر توجہ دی گئی جہاں اس کا شیوسینا کے ساتھ جاری اتحاد ختم ہوگیا ہے ۔ مہاراشٹرا میں مودی نے شیوسینا پر تنقیدوں سے گریز کیا تاہم انہوں نے کانگریس اور این سی پی پر شدید تنقیدیں کیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دونوں جماعتوں نے گذشتہ پندرہ سال میں ریاست کو لوٹ لیا ہے ۔ دوسری جانب کانگریس نے پرتھوی راج چاوان کو بحیثیت چیف منسٹر امیدوار پیش کیا تو این سی پی نے اجیت پوار کو اور شیوسینا نے ادھو ٹھاکرے کو پیش کیا ۔ چہارشنبہ کو ہونے والی رائے دہی لوک سبھا انتخابات کیلئے سبھی جماعتوں کیلئے طاقت کی آزمائش سمجھی جارہی ہے ۔ بی جے پی نے مہاراشٹرا میں مودی کے 20 جلسے منعقد کئے جبکہ انہوں نے ہریانہ میں 10 جلسوں سے خطاب کیا ۔ دونوں ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی اتوار کو ہوگی ۔ مہاراشٹرا کے انتخابات کو اس لئے اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ گذشتہ ربع صدی میں ایسے پہلے انتخابات ہونگے جہاں بڑی جماعتیں کسی اتحاد کے بغیر مقابلہ کر رہی ہیں۔ بی جے پی نے 257 نشستوں پر امیدوار نامزد کئے اور اپنی چھوٹی حلیفوں کو اس نے 31 نشستیں چھوڑی ہیں جبکہ کانگریس اور این سی پی تمام نشستوں پر مقابلہ کر رہی ہیں۔ کچھ دوسری جماعتوں کے امیدوار کانگریس کے نشان پر مقابلہ کر رہے ہیں۔ مہاراشٹرا انتخابات میں اصل مسائل مراٹھا شناخت ‘ ہندوتوا ‘ کرپشن اور ترقی رہے ہیں۔ کانگریس نے ترقی کا نعرہ دیا ہے جبکہ شیوسینا نے خود کو مہاراشٹرا کی اصل شناخت قرار دیا ہے ۔ بی جے پی نے کرپشن کے مسئلہ پر مہم چلائی اور مودی کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ۔ ہریانہ میں انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نے کانگریس کو نشانہ بنایا اور انہوں نے سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کی معاملتوں کو موضوع بنانے کی کوشش کی ۔ ہریانہ میں اصل مقابلہ کانگریس ۔ بی جے پی اور انڈین نیشنل لوک دل کے مابین سمجھا جارہا ہے ۔ ہریانہ کی تاریخ میں بی جے پی نے پہلی مرتبہ تمام نشستوں سے امیدوار نامزد کئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT