Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / مہاراشٹرا اور ہریانہ میں مشکلات، این ڈی اے محفوظ

مہاراشٹرا اور ہریانہ میں مشکلات، این ڈی اے محفوظ

نئی دہلی ۔ 8 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اور اس کی قدیم ترین حلیف شیوسینا کے درمیان ترک تعلق ہوگیا ہے اور مودی لہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات پر اثر انداز نہیں ہوسکی لیکن این ڈی اے کی ایک اور کلیدی حلیف لوک جن شکتی پارٹی نے بھگوا اتحاد کے خاتمہ کے آثار محسوس نہیں کئے ۔ ایل جے پی کے سربراہ اور مرکزی وزیر عدلیہ رام

نئی دہلی ۔ 8 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اور اس کی قدیم ترین حلیف شیوسینا کے درمیان ترک تعلق ہوگیا ہے اور مودی لہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات پر اثر انداز نہیں ہوسکی لیکن این ڈی اے کی ایک اور کلیدی حلیف لوک جن شکتی پارٹی نے بھگوا اتحاد کے خاتمہ کے آثار محسوس نہیں کئے ۔ ایل جے پی کے سربراہ اور مرکزی وزیر عدلیہ رام ولاس پاسوان ان خبروں سے متفق نہیں ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کابینہ پر غلبہ رکھتے ہیں ، جس میں وزراء کو کارکردگی کی کوئی آزادی حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی انتخابات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور مختلف قسم کے مسائل پر لڑے جاتے ہیں۔ مودی کا کہنا ہے کہ وہ بال ٹھاکرے پر تنقید نہیں کریں گے۔ شیوسینا کا کہنا ہے کہ وہ بی جے پی کی مرکزی حکومت پر تنقید نہیں کرے گی اور این ڈی اے مخلوط اتحاد میں برقرار رہے گی، اس سے ریاستی سطح پر مخلوط اتحاد کو حلیفوں سے مسائل کا سامنا منظر عام پر آگیا ہے۔ پاسوان نے مخلوط اتحاد کے ریاستی سطح پر مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کے قومی سطح پر اثرات مرتب ہونے کے امکان کو مسترد کردیا۔ انہوں نے بی جے پی کی بہار، یو پی، راجستھان اور اتراکھنڈ کے ضمنی اسمبلی انتخابات میں ناکامیوں کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ برسر اقتدار اتحاد پوری طرح محفوظ ہیں اور حلیف پارٹیوں کے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں مخلوط اتحاد کی کامیابی کا سہرا مودی کے سر باندھتے ہوئے پاسوان نے جن کی پارٹی ایل جے پی بہار میں این ڈی اے کی حلیف ہیں، کہا کہ مہاراشٹرا میں این ڈی اے کے حلیف ہونے اختلافات کو اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں دیکھنا چاہئے ۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ مہاراشٹرا میں شیوسینا۔بی جے پی اتحاد ختم ہوچکا ہے۔ کانگریس اور این سی پی بھی متحدہ طور پر ریاستی انتخابات میں مقابلہ نہیں کرسکتیں کیونکہ ریاستی انتخابات ایک مختلف قسم کا کھیل ہے ۔ تمام پارٹیوں کے کارکن قیادت پر ٹکٹوں کیلئے دباؤ ڈالتے ہیں۔ قائدین اعظم ترین تعداد کو امیدوار بنانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ این ڈی اے کے حلیفوں میں بھی اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور شیوسینا نے اپنی راہیں بی جے پی سے الگ کرلی ہیں۔ ہریانہ میں بھی شرومنی اکالی دل آئی این ایل ڈی ۔جے ڈی یو اتحاد کی تائید کر رہی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT