Wednesday , November 22 2017
Home / سیاسیات / مہاراشٹرا بلدی انتخابات : شیوسینااکثریتی پارٹی

مہاراشٹرا بلدی انتخابات : شیوسینااکثریتی پارٹی

یوپی پنچایت انتخابات : بی جے پی کا وزیراعظم کے حلقہ میں بھی ناقص مظاہرہ

ممبئی/ لکھنو ۔2نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) شیوسینا مہاراشٹرا کے علاقوں کلیان ۔ڈومبیولی کے بلدی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری‘ جب کہ ادھو ٹھاکرے پارٹی کی قیادت کررہے تھے اور بی جے پی نے تنہا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ‘ انتخابی مہم میں مخلوط حکومت کی حلیف پارٹیوں کے درمیان تلخ نوک جھونک دیکھی گئی ۔ بلدی انتخابات کے نتائج حکومت مہاراشٹرا کی مخلوط حکومت میں اقتدار کا توازن تبدیل کردے گی ۔ 122رکنی بلدیہ میں شیوسینا کو 52نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ قطعی اکثریت حاصل نہیں ہوسکی ۔ بی جے پی انتخابی مہم کے دوران پست ترین سطح تک اترتی ہوئی دیکھی گئی ۔ بی جے پی کو 42نشستیں حاصل ہوئیں ۔ اس طرح وہ دوسرے مقام پر رہیں ۔ عملی اعتبار سے اُس نے اپنا سابق موقف بہتر بنایا ہے جب کہ اُسے صرف 9نشستیں حاصل تھی ۔ راج ٹھاکرے زیرقیادت ایم این ایس کو 9نشستیں حاصل ہوئیں ۔ کانگریس ۔ این سی پی اتحاد کو چوتھے مقام پر قناعت کرنی پڑی۔ بلدیہ میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے دیگر پارٹیوں سے اتحاد ضروری ہے ‘ جس کا فیصلہ سیاسی پارٹیوں کی متعلقہ قیادتوں کے سپرد کردیا گیا ہے ۔ کولہاپور میں کانگریس کو سب سے زیادہ یعنی 27 ‘ این سی پی کو 15 نشستیں حاصل ہوئیں جب کہ بی جے پی ۔ تارا رانی اتحاد کو 32 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جن میں سے 12 بی جے پی کو اور 20تارا رانی محاذ کو حاصل ہوئیں ۔ شیوسینا صرف 4نشستیں حاصل کرسکی ۔ دیگر امیدواروں کو تین نشستیں حاصل ہوئیں ۔ کانگریس قائد سابق ریاستی وزیر ستیج پاٹل نے کہا کہ ان کی پارٹی این سی پی کے ساتھ اتحاد کر کے کولہا پور مجلس بلدیہ میں اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گی ۔ این سی پی قائد حسن مشرف نے کہا کہ ان کی پارٹی سینئر قائدین کو بشمول پارٹی صدر شرد پوار‘ سابق ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار اور سابق وزیر سنیل ٹٹکرے سے مشاورت کرے گی کہ کولہا پور بلدیہ میں کانگریس سے اتحاد کیا جائے یا نہیں ۔ دریں اثناء ریاستی وزیر کوآپریشن اور کولہا پور کے سرپرست وزیر چندرکانت پاٹل ( بی جے پی ) نے عوام کے فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ پارٹی تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو مزید 12نشستیں حاصل ہوسکتی تھیں اگر وہ مزید کوشش کرتی ۔ لکھنو سے موصولہ اطلاع کے بموجب سماج وادی پارٹی نے شاندار کامیابی حاصل کی جبکہ بہوجن سماج پارٹی کو دوسرے مقام پر اکتفا کرنا پڑا ۔ بی جے پی نے یوپی کے پنچایت انتخابات میں انتہائی ناقص مظاہر کیا ۔ وزیراعظم نریندر مودی کے حلقہ انتخاب وارنسی کی 48 نشستوں میں سے بی جے پی حمایت یافتہ 40 امیدوار ناکام رہے جن میں وزیراعظم نریندر مودی کا گود لیا ہوا دیہات بھی شامل ہے ۔ کانگریس کو بھی نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کے لوک سبھا حلقہ امیٹھی کی 36 نشستوں میں سے 28 پر ناکامی ہوئی ۔ رائے بریلی حلقہ میں بھی جو صدر کانگریس سونیا گاندھی کا حلقہ ہے پارٹی کا مظاہرہ ناقص ہونے کا اندیشہ ہے ۔ پنچایت انتخابات میں ارکان خاندان کی اکثریت نے کامیابی حاصل کی ، تاہم سماج وادی پارٹی وزراء کے 8 رشتہ داروں کو شکست ہوئی۔ بی جے پی نے پہلی بار ان انتخابات میں حصہ لیا تھا ۔ آگرہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی ) کے حمایت یافتہ امیدواروں نے پنچایت انتخابات میں اچھا مظاہرہ کیا ۔ اب تک جاری کردہ انتخابی نتائج سے پارٹی کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ بی ایس پی آگرہ ضلع پنچایت انتخابات میں پہلے مقام پر آگئی ہے جبکہ سماج وادی پارٹی جو ریاست پر برسراقتدار ہے دوسرے مقام پر ہے ۔ بی جے پی کا مظاہرہ انتہائی کمزور رہا اور اسے تیسرے مقام پر اکتفا کرنا پڑا ۔ آگرہ کی بیشتر نشستوں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔ بی ایس پی کے حمایت یافتہ 16 امیدوار کامیاب رہے ۔ ان کے بعد 9 کامیاب امیدواروں کے ساتھ سماج وادی پارٹی دوسرے مقام پر ہے ۔ آزاد امیدواروں نے 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ بی جے پی حمایت یافتہ امیدواروں کو صرف 7 نشستیں حاصل ہوئیں۔

TOPPOPULARRECENT