Sunday , January 21 2018
Home / سیاسیات / مہاراشٹرا : بی جے پی سے اتحاد پر شیوسینا کا موقف مزید سخت

مہاراشٹرا : بی جے پی سے اتحاد پر شیوسینا کا موقف مزید سخت

ممبئی 19 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) نشستوں کی تقسیم پر معاہدہ کو جلد قطعیت دینے بی جے پی کے الٹی میٹم کو مسترد کرنے کے ایک دن بعد شیوسینا نے آج اپنے موقف میں مزید سختی پیدا کرلی ہے اور اس نے کہا کہ مہاراشٹرا میں وہ اتحاد میں سینئر پارٹنر رہیگی اور اقتدار ملنے پر اس کے لیڈر کو ہی چیف منسٹر بنایا جائیگا ۔ شیوسینا کے ترجمان و رکن پارلیمنٹ سنجے

ممبئی 19 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) نشستوں کی تقسیم پر معاہدہ کو جلد قطعیت دینے بی جے پی کے الٹی میٹم کو مسترد کرنے کے ایک دن بعد شیوسینا نے آج اپنے موقف میں مزید سختی پیدا کرلی ہے اور اس نے کہا کہ مہاراشٹرا میں وہ اتحاد میں سینئر پارٹنر رہیگی اور اقتدار ملنے پر اس کے لیڈر کو ہی چیف منسٹر بنایا جائیگا ۔ شیوسینا کے ترجمان و رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ مہاراشٹرا میں شیوسینا وہ پارٹی ہے جو نشستیں دوسروں کو دیتی ہے اور خود اپنے لئے کسی سے لیتی نہیں ہے ۔ ریاست میں وہ بڑی حلیف ہے اور بڑی حلیف ہی رہیگی ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی تشکیل سے قبل شیوسینا مہاراشٹرا کی سیاست میں ہے اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ اتحاد رہے گا یا نہیں ۔ چیف منسٹر کا انتخاب شیوسینا سے ہی ہوگا ۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے مہاراشٹار میں ایک ریلی سے خطاب میں کل کہا تھا کہ ریاست میں آئندہ حکومت بی جے پی تشکیل دیگی ۔ راوت نے کہا کہ پارٹی عاملہ کا ایک اجلاس 21 ستمبر کو طلب کیا گیا ہے جس میں تمام ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی شرکتکرینگے اور اسی اجلاس میں شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے مسئلہ پر قطعی فیصلے کا اعلان کرینگے ۔

راوت نے کہا کہ ان کی پارٹی کے کور کمیٹی اجلاس میں کل رات ہی ادھو ٹھاکرے کو یہ اختیار دیدیا گیا تھا کہ وہ مہاراشٹرا کے وقار اور پارٹی کی عزت نفس اور بال ٹھاکرے کے اصولوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اتحاد کے تعلق سے فیصلہ کریں۔ مسٹر راوت نے تاہم اس بات سے انکار کیا کہ دونوں جماعتوں کا اتحاد ختم ہونے کے قریب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم 25 سال سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ تاہم ابھی تک اتحاد ختم ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ ہم نے اپنی حلیف جماعتوں کو نشستوں کی تقسیم کا فارمولا پیش نہیں کیا ہے تاہم ہمارے لئے عزت نفس اہمیت کی حامل ہے ۔ یہ اطلاعات تھیں کہ شیوسینا نے بی جے پی کیلئے 119 نشستیں چھوڑنے سے اتفاق کیا ہے

۔ اتنی ہی نشستوں پر بی جے پی نے گذشتہ انتخابات میں مقابلہ کیا تھا ۔ اس دوران بی جے پی کے ذرائع نے بھی بتایا کہ کل رات بی جے پی نے 2009 کے ہی نشستوں کی تقسیم کے فارمولے کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ بی جے پی کا مطالبہ ہے کہ اس کیلئے 135 نشستیں چھوڑی جائیں۔ شیوسینا اور بی جے پی دونوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اپنی عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگی ۔ دونوں جماعتوں کا اصرار ہے کہ آئندہ حکومت کی قیادت وہی کرینگے ۔ ابھی تک دونوں جماعتوں کے اعلی قائدین کے مابین اس مسئلہ پر راست بات چیت نہیں ہوسکی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT