Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / مہاراشٹرا : دوبارہ قابل استعمال پانی سے لازمی استفادہ پر غور

مہاراشٹرا : دوبارہ قابل استعمال پانی سے لازمی استفادہ پر غور

ڈیمس کی اونچائی بڑھانے، جھیلوں اور نہروں کو گہرا کرنے کے پروجکٹ کا منصوبہ ، وزیر صنعتیں کا بیان
ممبئی ، 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں چونکہ دن بہ دن خشک سالی صورتحال ابتر ہورہی ہے اور ڈیمس میں ذخیرہ گھٹتا جارہا ہے، ریاستی حکومت ایسا قانون لانے پر غور کررہی ہے کہ صنعتوں کیلئے دوبارہ قابل استعمال بنائے گئے پانی سے استفادے کو لازمی کردیا جائے۔ اس بحران کی شدت کم کرنے کی خاطر اقدامات کے تحت ریاستی وزیر صنعتیں سبھاش دیسائی نے مہاراشٹرا انڈسٹریز ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم آئی ڈی سی) کو یہ ہدایت بھی دی کہ ڈیمس کی اونچائی بڑھانے، پانی سے گاد کا ازالہ کرنے اور جھیلوں کو گہرا کرنے کی عملی صورت کا جائزہ لیں۔ شراب کی کشید کرنے والے کارخانوں کیلئے پانی میں 20 فی صد کٹوتی اور دیگر یونٹوں کیلئے سربراہی میں 10 فی صد کٹوتی کو پہلے ہی مراٹھواڑہ خطہ کے سوکھے ضلع اورنگ آباد میں لاگو کیا جاچکا ہے، جہاں پانی کی کمی سے دوچار شوگر ملز اور ڈسٹلریز کا جال ہے۔ دیسائی نے نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو بتایا کہ ہم طویل مدتی اقدامات شروع کرنے پر غور کررہے ہیں جیسے ایم آئی ڈی سی کی اونچائی میں اضافہ اور ایم آئی ڈی سی ایکٹ 1961ء میں ترمیم کے ذریعے صنعتوں کیلئے دوبارہ قابل استعمال بنائے گئے پانی سے استفادہ کو لازمی کرنا۔ انھوں نے کہا کہ محکمہ صنعت ڈیمس کی اونچائی بڑھانے اور جھیلوں اور نہروں کو گہرا کرنے کے پروجکٹ کو بھی شروع کرے گا تاکہ پینے کے پانی کا تحفظ ہوجائے۔ اس ریاست میں بالخصوص مراٹھواڑہ میں پانی کے شدید بحران کے بارے میں انھوں نے کہا کہ خشک خطہ میں 62 کواپریٹیو اور پرائیویٹ شوگر ملز ہیں اور ضلع اورنگ آباد میں کئی شراب کی کشید کے کارخانے بھی ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا کہ مراٹھواڑہ میں شوگر ملز اور ڈسٹلریز زیادہ ہیں جو ایسے خطہ میں پانی استعمال کرتے ہیں جسے پانی کی شدید قلت کا سامنا عام ہوچکا ہے۔ 1 کیلوگرام شکر کی تیاری کیلئے گنے کے علاوہ کافی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔ جب آپ ان ملوں میں لاکھوں میٹرک ٹن شکر کی پیداوار کا سوچتے ہو اور پھر کئی لاکھ میٹرک ٹن پیداوار کی برآمد بھی ہوتی ہے تو آپ درحقیقت اتنی ہی بھاری مقدار میں پانی کو برآمد کررہے ہو۔تاہم، انھوں نے کہا کہ اگرچہ پینے کے پانی کی بہت زیادہ اہمیت ہے، صنعتیں بھی اہم ہیں کیونکہ وہ لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ریاست میں 11 بڑے آبپاشی ڈیمس کے منجملہ 7 میں صفر فی صدی اسٹاک باقی رہ گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT