Tuesday , September 18 2018
Home / اداریہ / مہاراشٹرا : سینا ۔ بی جے پی دوریاں

مہاراشٹرا : سینا ۔ بی جے پی دوریاں

کرم ہے یہ امیر کارواں کا غبار کارواں ہے اور میں ہوں مہاراشٹرا : سینا ۔ بی جے پی دوریاں

کرم ہے یہ امیر کارواں کا
غبار کارواں ہے اور میں ہوں
مہاراشٹرا : سینا ۔ بی جے پی دوریاں
مہاراشٹرا میں جیسے جیسے اسمبلی انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے سیاسی منظر نامہ میں تبدیلیوں کے آثار بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ کچھ جماعتوں کا اتحاد ختم ہو رہا ہے تو کچھ جماعتیں نئے اتحاد بنانے کی کوششوں میں جٹ گئی ہیں۔ کچھ چاہتی ہیں کہ اسے مقابلہ کیلئے زیادہ نشستیں حاصل ہوجائیں اور کچھ چاہتی ہیں کہ دوسروں کی بجائے اسے بہتر سے بہتر کامیابیاں حاصل ہوں۔ حال ہی میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں مہاراشٹرا میں جس طرح سے شیوسینا اور بی جے پی اتحاد کو کامیابیاں ملی ہیں اس کے بعد دونوں ہی جماعتوں کے حوصلے اپنے اپنے طور پر بلند ہوگئے ہیں۔ دونوں جماعتوں کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ وہ زیادہ نشستوں کی حقدار ہیں اور اسے اپنی حلیف جماعت کیلئے زیادہ نشستیں چھوڑنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ بی جے پی کو اندازہ ہے کہ وہ نریندر مودی کے حق میں چلنے والی لہر سے جس طرح لوک سبھا انتخابات میں کامیاب رہی ہے اسی طرح اسمبلی انتخابات میں بھی اسے کامیابی مل جائیگی ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ وہ شیوسینا سے زیادہ نشستوں کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ دوسری جانب خود شیوسینا کا احساس ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں بھی اس کی کارکردگی بہتر رہی ہے اور یہی سلسلہ اسمبلی انتخابات تک جاری رہے گا اور اسے ریاست میں حکومت بنانے کا موقع ملنا چاہئے ۔ اسی وجہ سے شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کرنے کے ارادے ظاہر کئے ہیں۔ ان کے چچا زاد بھائی اور مہاراشٹرا نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے بھی اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ ایسی صورت میں ریاست میں دلچسپ سیاسی منطر نامہ ابھر کر سامنے آسکتا ہے ۔ بی جے پی اور شیوسینا اتحاد کے درمیان جو دو دہوں سے زیادہ عرصہ سے تعلقات رہے ہیں وہ بتدریج کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور اس اندیشہ کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ اسمبلی انتخابات سے قبل انہیں ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ آرا ہونا پڑیگا کیونکہ دونوں ہی جماعتیں اپنے اپنے موقف پر فی الحال تو اٹل نظر آتی ہیں ۔ مستقبل میں شائد سیاسی مجبوریوں کو دیکھتے ہوئے شائد وہ اپنا اتحاد برقرار رکھیں لیکن یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس اتحاد میں پہلے والا جوش و خروش نہیں رہا ہے ۔
بی جے پی کے مہاراشٹرا یونٹ قائدین کا کہنا ہے کہ ریاست میں پارٹی کو مزید پھیلانے اور مستحکم کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ شیوسینا کے ساتھ اتحاد کو ختم کیا جائے ۔ بی جے پی قائدین چاہتے ہیں کہ انہیں اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کیلئے زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل ہوجائیں تاکہ کامیابی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے عوام کے جوش و جذبہ سے فائدہ اٹھایا جائے ۔ یہی حال شیوسینا کا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں اس نے بی جے پی کو زیادہ نشستوں پر مدد کی ہے اور اسے مرکز میں اقتدار مل چکا ہے ایسے میںاسے ریاست میں اقتدار پر آنکھیں بچھانے کی بجائے شیوسینا کی تائید کرنی چاہئے ۔ شیوسینا چاہتی ہے کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات میں سینا ۔ بی جے پی اتحاد کو کامیابی ملے اور ادھو ٹھاکرے ریاست کے چیف منسٹر بن جائیں۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس اور این سی پی اتحاد کو جس طرح سے عوامی برہمی کے نتیجہ میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اس سے شیوسینا بی جے پی اتحاد مزید مستحکم اور مضبوط ہونے کی بجائے اقتدار کی ہوس میں ٹوٹتا اور بکھرتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ اتحاد میں شامل دونوں ہی جماعتیں چاہتی ہیں کہ اسے زیادہ نشستیں ملیں اور اگر اس اتحاد کو اقتدار حاصل ہوتا ہے تو اسے ہی حکومت کی قیادت کرنے کا موقع ملے ۔ دونوں جماعتیں اس موقع کو اپنا اپنا حق قرار دینے سے باز نہیں آتیں۔ بی جے پی کیلئے زیادہ شدت اس کے ریاستی قائدین دکھارہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سینا سے اتحاد ختم ہوجائے ۔
اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست کے حالات میں جہاں دوسری تبدیلیاں پیش آسکتی ہیں وہیں سیاسی تبدیلیوں کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ از سر نو سیاسی صف بندیاں ہوسکتی ہیں اور نئے اتحاد بھی وجود میں آسکتے ہیں۔ اس سے قطع نظر دو دہوں پر محیط قدیم اتحاد ٹوٹنے کے قریب دکھائی دیتا ہے ۔ بی جے پی کے سینئر قائدین جو مرکز میں عہدے حاصل کرچکے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ریاست میں بھی پارٹی کی حکومت قائم ہو اور انہیں اس کی قیادت کرنے کا موقع ملے ۔ وہ شیوسینا کو یہاں موقع دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ اقتدار کی لالچ ہی ہے جس کے نتیجہ میں یہ قدیم اتحاد تلخیو ں کا شکار ہوگیا ہے اور اس کے آگے کے سفر میں مزید تلخیاں واضح دکھائی دے رہی ہیں۔ اگر یہ اتحاد ٹوٹ جاتا ہے اور شیوسینا ۔ بی جے پی قائدین اگر اپنے اختلافات کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں تو پھر یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس اتحاد کو انتخابات میں وہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا جس کی آس میں وہ ایک دوسرے پر سبقت لیجانا چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT