Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / مہاراشٹرا میں اب مجلس کا کوئی مستقبل نہیں، عوام کو مایوس کرنے کی سزا

مہاراشٹرا میں اب مجلس کا کوئی مستقبل نہیں، عوام کو مایوس کرنے کی سزا

مجلسی قائدین کی گمراہ کن انتخابی مہم کو ناندیڑ کے رائے دہندوں نے قبول نہیں کیا
حیدرآباد۔12اکٹوبر(سیاست نیوز) ناندیڑ میں مجلس اتحاد المسلمین کو شکست نے ممبئیاور دیگر بلدی انتخابات کی یاد تازہ کروادی۔ مہاراشٹر میں قدم جمانے کے لئے مجلس نے ناندیڑ بلدی انتخابات کو ہی بنیاد بنایا تھا اور ناندیڑ بلدیہ میں کامیابی کے بعد ہی مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن مہارشٹراسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد مسلسل شکست سے یہ ظاہر ہونے لگا ہے کہ مہاراشٹر کے مسلم رائے دہندے اپنے شعور کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ممبئی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر کے مسلمانوں نے جن توقعات کے ساتھ مجلس کو کامیاب بنایا تھا وہ پوری نہیں ہوئی جس کے نتیجہ میں مہارشٹرا کے عوام نے انہیں مسترد کردیا۔ ناندیڑ کے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ بلدی انتخابات میں مجلس نے ’’دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا آیا‘‘ کے جذبات ابھارے تھے اوراسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کے نعرہ ’’ہر ہر مودی ‘گھر گھر مودی ‘‘ کے طرز پر ’’ہر گھر مجلس ‘گھر گھر مجلس‘‘ کا نعرہ دیاتھا لیکن اس مرتبہ دلت۔مسلم اتحاد کا نعرہ دیتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی سے اتحاد کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ناندیڑ بلدی انتخابات کے دوران مجلس کو ان تمام 11نشستوں پر شکست ہوئی جس طرح بائیکلہ اسمبلی حلقہ ممبئی میں مجلس کے رکن اسمبلی ہونے کے باوجود تمام کارپوریٹرس کو شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا وہی صورتحال ناندیڑ میں دیکھی جا رہی ہے۔ ناندیڑ میں مجلس کی شکست کو ناندیڑ کی مسلم تنظیموں نے سیکولر قوتوں کے اتحاد اور فرقہ پرستوں کی شکست سے تعبیر کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ اب مہارشٹر میں مجلس کا کوئی مستقبل نہیں ہے مہاراشٹر میں مجلس کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور اب ناندیڑ نے ہی 5برسوں کے دوران مجلس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والے تمام امیدواروں کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ ناندیڑ کے عوام مہاراشٹر میں فرقہ پرستی نہیں ترقی دیکھنا چاہتے ہیں۔شہر حیدرآباد میں موسلادہار بارش کے دوران مجلسی قائدین و منتخبہ عوامی نمائندے ناندیڑ میں مصروف تھے اس کے باوجود ایک نشست پر بھی کامیابی حاصل نہیں ہو پائی ۔مہاراشٹر کے سیکولر رائے دہندوں نے دلت ۔مسلم اتحاد کے نعرہ کو بھی مستردکردیا۔ سوشل میڈیا پر کئے جانے والے تبصروں میں بھی مجلس کی مقامی اور ناندیڑ کی علاقائی قیاد ت کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا ہے اور سب سے زیادہ ’’گھر واپسی‘‘ کے نعرہ کے ساتھ انتخابی نتائج شئیر کئے جانے لگے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT