Wednesday , January 23 2019

مہاراشٹرا میں ایس ایس سی ناکام طلبہ کو تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی سہولت

مارک شیٹ پر فیل کی بجائے دوبارہ امتحان تحریر کرنے کے اہل آویزاں

ممبئی۔ 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایس ایس سی میں ناکام طلبہ کی حوصلہ افزائی اور ترک ِ تعلیم سے روکنے کیلئے حکومت مہاراشٹرا نے انقلابی قدم اٹھایا ہے اور مارچ 2017ء سے ایس ایس سی بورڈ امتحان میں 3 سے زائد پرچوں میں ناکام طلبہ کو فیل (ناکام) قرار نہیں دیا جائے گا اور ان کی مارک شیٹ پر فیل (ناکام) تحریر نہیں ہوگا بلکہ ’’امتحانات میں دوبارہ شرکت کے اہل‘‘ آویزاں ہوگا۔ اگر طلبہ 2 مضامین میں ناکام ہوگئے تو ان کے مارک شیٹ پر تحریر ہوگا کہ شرائط کے ساتھ گیارہویں جماعت میں تعلیم کے اہل (پرموٹیڈ) ہوں گے۔ بعدازاں طلبہ تمام مضامین میں کامیاب ہونے پر نئی مارک شیٹ جاری کی جائے گی جس پر ’’پاس‘‘ (کامیاب) تحریر ہوگا اور قدیم مارک شیٹ واپس حاصل کرلی جائے گی، تاہم طلبہ اگر ریگولر یا سپلیمنٹری امتحانات میں 3 سے زائد پرچوں میں ناکام ہوجائیں تو اس صورت میں مارک شیٹ پر یہ تحریر ہوگا کہ فیل کی بجائے صرف اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے اہل ہوں گے۔ ریاستی محکمہ تعلیمات نے یہ اعتراف کیا ہے کہ 16 لاکھ طلبہ میں 2.5 لاکھ طلبہ بورڈ امتحانات کلیئر (کامیاب) کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور حکومت نے سپلیمنٹری اور شرائط کے ساتھ امتحانات میں شرکت کی اجازت (ATKT) کے ذریعہ ناکام طلبہ کی تعداد گھٹانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے چنانچہ اختراعی طریقہ کار سے تقریباً ایک لاکھ طلبہ ایس ایس سی میں کامیاب قرار پائے ہیں۔ جاریہ سال جن طلبہ نے سپلیمنٹری میں کامیابی حاصل نہیں کی، انہیں ایک اور موقع دیا جائے گا اور سپلیمنٹری کے نتائج کا اعلان ماہ اگست میں کیا جائے گا۔ اس طرح یہ طلبہ گیارہویں جماعت میں داخلے کے اہل ہوں گے اور ان کا ایک سال ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔ حکومت نے یہ فیصلہ طلبہ کو ترک تعلیم اور مایوسی کے عالم میں خودکشی سے روکنے کیلئے کیا ہے۔ چونکہ دسویں جماعت کے نتائج طلبہ کی جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرانداز ہوتے ہیں اور ان کی ناکامی سے مستقبل کے امکانات غیریقینی ہوجاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT