Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / مہاراشٹرا میں بیف کھانا اور رکھنا جرم نہیں : بمبئی ہائیکورٹ

مہاراشٹرا میں بیف کھانا اور رکھنا جرم نہیں : بمبئی ہائیکورٹ

ریاست میںذبیحہ پر عائد پابندی برقرار ۔ ریاستی حکومت کے متنازعہ احکام کالعدم ۔ عدالت کی رولنگ
ممبئی۔/6مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) مہاراشٹرا میں بی جے پی کی زیر قیادت حکومت کی جانب سے بیل بچھڑوں کے ذبیحہ پر پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ نے آج بیرون ریاست ذبیحہ کردہ جانوروں کا گوشت رکھنے پر جرم قرار دینے سے انکار کردیا۔ جسٹس اے ایس اوکا اور جسٹس ایس سی گپتا پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے قانون کے متنازعہ دفعات کو کالعدم کردیا جس کے تحت کسی بھی شخص کے پاس بیف رکھنے پر قابل جرم قرار دیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے مہاراشٹرا کے قانون تحفظ مویشیان ( مرممہ ) کے دفعہ 5 ( ڈی ) اور 9( بی ) کو مسترد کردیا جس کے تحت ریاست میں یا بیرون ریاست ذبیحہ کردہ جانوروں کے گوشت ( بیف ) رکھنے پر مستوجب سزا قرار دیا گیا ہے اور بتایا کہ اگر کوئی شخص لاشعوری طور پر بیف رکھتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی اور صرف جان بوجھ کر بیف رکھنے پر جرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ قانون بابت 1976 کے مطابق ذبیحہ گاؤ اور گوشت کا رکھنا اور استعمال کرنا ممنوعہ ہے۔ تاہم 2015 میں ترمیم کرتے ہوئے بیل بچھڑوں کے ذبیحہ پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی جس کی خلاف ورزی پر 2000 روپئے جرمانہ اور ایک سال کی سزائے قید کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ جس کو ممبئی شہر کے ایک نامور وکیل ہریش جگتیانی نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔ دیگر درخواستگذاروں وشال سیٹھ ( وکیل ) اور شائناس( طالبہ ) نے یہ استدلال پیش کیا کہ ہم ہندو ہونے کے باوجود بیف کا استعمال کرتے ہیں جو کہ ہماری غذائی عادات بن گئی ہے اور بیف پر پابندی گوشت کی فروخت اور رکھنے پر جرم قرار دیئے جانے سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ دریں اثناء چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فڈ نویس نے کہا کہ بامبئے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا جس سے مہاراشٹرا کے قانون تحفظ مویشیان ( مرممہ ) کے غیر دستوری دفعات کو کالعدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مسئلہ پر وکلاء سے مشاورت کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT