Thursday , November 23 2017
Home / سیاسیات / مہاراشٹرا میں بی جے پی کو مزید سخت شیوسینا کا سامنا

مہاراشٹرا میں بی جے پی کو مزید سخت شیوسینا کا سامنا

پٹنہ انتخابی گھونسے کے بعد ایک اور خطرہ، مخلوط حکومت کی شریک کی تنقید جاری
ممبئی 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بہار انتخابات میں شکست کے ساتھ بی جے پی کی حلیف شیوسینا امکان ہے کہ زیادہ جارحانہ موقف اختیار کرے گی اور مہاراشٹرا میں آئندہ دنوں میں مخلوط حکومت کی کارروائی میں اپنی زیادہ رائے لینے پر زور دے گی۔ اودھو ٹھاکرے زیرقیادت پارٹی، بی جے پی زیرقیادت ریاستی حکومت کو مرکزی حکومت کو تقریباً ہر اہم مسئلہ پر تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اس محاذ پر اُس کے موقف میں کوئی نرمی نہیں آئی ہے۔ سیاسی مبصرین اور قائدین کے بموجب کلیان ۔ ڈومبیولی مجلس بلدیہ کے انتخابات میں کامیابی سے شیوسینا کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور وہ بہار میں بی جے پی کی شکست پر اپنی خوشی پوشیدہ رکھنے سے قاصر ہے۔ پارٹی نے بہار میں خود اپنی کامیابی کا بھی تذکرہ کیا ہے جسے تقریباً 100 نشستوں پر دو لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے حالانکہ وہ ایک بھی نشست حاصل کرنے سے قاصر رہی۔ ریاستی اسمبلی کا سرمائی اجلاس 7 ڈسمبر سے ناگپور میں شروع ہورہا ہے۔ امکان ہے کہ اس میں مخلوط حکومت کے شرکاء کے درمیان زبانی تکرار کے مزید مناظر نظر آئیں گے۔ اجلاس سے قبل چیف منسٹر دیویندر فڈنویس جنھوں نے اپنی میعاد کا ایک سال مکمل کرلیا ہے، توقع ہے کہ مجلس وزراء میں توسیع کرنے کا امکان ہے۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان مادھو بھنڈاری نے کہاکہ بہار کے انتخابی نتائج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پارٹی کے مخالفین کے حوصلے بلند ہوجائیں۔ کانگریس اور این سی پی ذمہ دار اپوزیشن پارٹیوں کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اُنھیں صرف بی جے پی زیرقیادت حکومت کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے سے دلچسپی ہے۔ این سی پی کے ترجمان نواب ملک نے کہاکہ سینا کی اقتدار کے لئے سودے بازی میں اب اضافہ ہوگیا ہے اور بعض لوگ بی جے پی پر مزید دباؤ کا مشاہدہ کریں گے تاکہ شیوسینا کے مطالبات کی تکمیل ہوسکے۔ تاہم برسر اقتدار مخلوط حکومت کے لئے اہم ہونے کے باوجود شیوسینا حکومت کی تائید سے دستبردار نہیں ہوگی۔ بلدی انتخابات کی مہم میں سینا اور بی جے پی قائدین بشمول اودھو ٹھاکرے اور فرنویس نے برسر عام ایک دوسرے پر تنقید کی تھی اور دونوں سیاسی پارٹیوں کے تعلقات پست ترین سطح پر پہونچ گئے تھے۔ اودھو ٹھاکرے نے بی جے پی کے تکبر ترک نہ کرنے کی صورت میں مخلوط حکومت کی تائید سے دستبرداری اختیار کرنے کی دھمکی دی تھی۔ لیکن گزشتہ ہفتہ شیوسینا نے بلدی اقتدار کے لئے بی جے پی سے اتحاد کرلیا کیوں کہ وہ سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر اُبھری ضرور تھی لیکن اُسے اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل نہیں تھی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT