Sunday , April 22 2018
Home / شہر کی خبریں / مہاراشٹرا میں یتیم بچوں کو ایک فیصد تحفظات

مہاراشٹرا میں یتیم بچوں کو ایک فیصد تحفظات

تلنگانہ کے مسلمان یتیموں سے بدتر
چیف منسٹر سے رکن پارلیمنٹ حیدرآباد کی ملاقات میں تحفظات کا کوئی ذکر نہیں، تعلیمی اداروں کے مسائل کی فکر

حیدرآباد۔ 17 جنوری (سیاست نیوز) مہاراشٹرا کی دیویندر فڈنویس حکومت نے یتیم بچوں کو سرکاری ملازمت میں ایک فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مہاراشٹرا کابینہ نے یتیموں کی حالت زار اور سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست فارم میں کاسٹ کی نشاندہی میں مشکلات کو محسوس کرتے ہوئے اوپن زمرے کے تحت ایک فیصد تحفظات فراہم کرنے کے فیصلے کو منظوری دی ہے۔ کابینہ کے مطابق یتیم بچوں کو ان کی ذات کا پتہ نہیں ہوتا لہٰذا وہ سرکاری ملازمتوں میں تحفظات کے فوائد حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ لہٰذا حکومت کے فیصلے کے مطابق آئندہ ہونے والے تمام سرکاری تقررات میں یتیم بچوں کو ایک فیصد تحفظات حاصل ہوں گے۔ دیویندر فڈنویس حکومت نے یتیم و یسیر بچوں کی فکر کرتے ہوئے ان کے حق میں اہم فیصلہ کیا لیکن افسوس کہ تلنگانہ کے سی آر حکومت نے تعلیمی اور معاشی طور پر پسماندہ مسلمانوں سے کیے گئے 12 فیصد تحفظات کے وعدے کی تکمیل میں کوئی پیشرفت نہیں کی۔ اب جبکہ حکومت کے ساڑے تین سال مکمل ہوچکے ہیں، مسلمانوں کو صرف وعدوں اور تیقنات سے بہلایا جارہا ہے۔ 2 برس تک تحفظات کی فراہمی کا زبانی وعدہ کیا جاتا رہا اور چند ماہ سے مسلمانوں کو اسمبلی میں بل کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے مطمئن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکومت نے مسلمانوں کی ناراضگی سے بچنے کے لیے اسمبلی میں 12 فیصد تحفظات کے بل کو منظوری دی اور اسے مرکزی حکومت کو روانہ کردیا۔ مرکز کی بی جے پی حکومت مسلم تحفظات کے حق میں نہیں ہیں اور اس کا اظہار ایک سے زائد مرتبہ بی جے پی قائدین نے کیا۔ اس کے باوجود بل کو منظوری کے لیے مرکز کے پاس روانہ کرنا ناقابل فہم ہے۔ چیف منسٹر ابھی بھی یہ دلاسہ دے رہے ہیں کہ وہ مرکز سے بل کی منظوری حاصل کرنے دبائو بنائیں گے۔ انہوں نے مسلم تحفظات کے لیے جنترمنتر پر دھرنا کرنے یا پھر سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ نہ ہی پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاس میں مسلم تحفظات کا مسئلہ ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ نے اٹھایا اور نہ ہی ٹی آر ایس کے وفد نے اس سلسلہ میں وزیراعظم سے نمائندگی کی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حکومت کی حلیف مقامی جماعت مجلس نے حالیہ عرصہ میں چیف منسٹر سے اپنی ملاقاتوں میں مسلم تحفظات پر عمل آوری کا مطالبہ تک نہیں کیا۔ تعلیمی اداروں سے متعلق اپنے مسائل کے حل کے لیے بعض دیگر تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کے ساتھ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے کل چیف منسٹر سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں تعلیمی اداروں کو رعایتوں کی درخواست کی گئی کیوںکہ مقامی جماعت کے بھی کئی تعلیمی ادارے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے ترجمان اخبار میں دعوی کیا گیا کہ چیف منسٹر سے اقلیتی بہبود کا بجٹ 4,100 کروڑ کرنے کی درخواست کی گئی ہے جبکہ میٹنگ میں موجود افراد نے بجٹ کے بارے میں کسی بھی طرح کی بات چیت کی تردید کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نہ ہی گفتگو میں بجٹ کا تذکرہ رہا اور نہ کوئی یادداشت پیش کی گئی۔ تعلیمی اداروں کے مسائل پر بات چیت سے مسلمانوں میں ناراضگی پیدا ہونے کے اندیشے کے تحت اقلیتی بہبود بجٹ میں اضافہ کی ترجمان اخبار کے ذریعہ تشہیر کی گئی۔ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر ٹی آر ایس اور نہ حلیف مقامی جماعت کو کوئی دلچسپی نظر آتی ہے۔ انہیں تو مہاراشٹرا کی دیویندر فڈنویس حکومت سے سبق لینا چاہئے جنہوں نے یتیم و یسیر بچوں کی فکر کی ہے۔ تلنگانہ کے پسماندہ مسلمانوں کا حال مہاراشٹرا یتیم بچوں سے ابتر ہوچکا ہے اور تحفظات پر عمل آوری کے سلسلہ میں کوئی پرسان حال نہیں۔ 2019ء کے انتخابات میں مسلمان دونوں جماعتوں کو سبق سکھانے کی تیاری کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT