Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / مہاراشٹرا پُل انہدام واقعہ میں ہنوز 14 افراد لاپتہ

مہاراشٹرا پُل انہدام واقعہ میں ہنوز 14 افراد لاپتہ

دریا میں طغیانی اور مگرمچھوں کی وجہ سے تلاشی کارروائی میں رکاوٹ
ممبئی ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ضلع رائے گڑھ میں مہاڈ کے قریب ایک پل کے انہدام کے بعد دریائے ساوتری میں لاپتہ افراد کی تلاشی میں مصروف غوطہ خوروں اور امداد و بچاؤ کارکنوں کو زبردست لہوں اور مگر مچھوں سے مقابلہ درپیش ہے جبکہ فکرمند رشتہ داروں نے سست رفتار تلاشی مہم پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اگرچیکہ دریا سے 26 نعشیں برآمد کرلی گئی ہیں لیکن 14 افراد ہنوز لاپتہ ہیں۔ اندیشہ ہے کہ یہ لوگ فوت ہوچکے ہیں۔ واضح رہے کہ ممبئی۔ گوا شاہراہ پر 12 اگست کو ایک پل منہدم ہوجانے سے 2 آر ٹی سی بسیں اور دیگر خانگی گاڑیاں دریائے ساوتری میں بہہ گئی تھیں ۔ تلاشی ٹیموں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمام نعشوں اور گاڑیوں کی بازیابی تک اپنی مہم جاری رکھیں۔ یہ تلاشی ٹیمیں این ڈی آر ایف، بحریہ، کوسٹ گارڈس اور مقامی غوطہ خوروں پر مشتمل ہے۔ رائے گڑھ کے ڈپٹی کلکٹر ستیش باگل نے آج یہ اطلاع دی اور بتایا کہ تلاشی کارروائیاں جاری ہیں جس کی نگرانی ضلع کلکٹر اور ایس پی کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سینئر عہدیدار اور چیف منسٹر بھی وقفہ وقفہ سے صورتحال سے واقفیت حاصل کررہے ہیں۔

یہ دریافت کئے جانے پر کہ دریا میں بہنے والی نعشیں اور گاڑیوں کی بازیابی میں سکیورٹی ایجنسیاں کیوں ناکام ہوگئی ہیں، مسٹر باگل نے کہا کہ دریا میں طغیانی سے تلاشی عملہ کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔ علاوہ ازیں تلاشی کے بعض مقامات پر مگرمچھوں کا بسیرا ہے جس کی وجہ سے انہیں حد سے زیادہ احتیاط برتنا پڑ رہا ہے۔ دریا کی سطح آب میں کمی کے بعد غوطہ خوروں کے کام میں آسانی پیدا ہوجائے گی۔ این ڈی آر ایف 5 ویں بٹالین کمانڈنٹ انوپم سریواستو نے بتایا کہ 40 نفوس پر مشتمل ان کی چار ٹیمیں آج صبح سے تلاشی میں مصروف ہیں۔ دریں اثناء رائے گڑھ انتظامیہ نے لاپتہ افراد کے 100 رشتہ داروں کے قیام کا انتظام کیا ہے جوکہ نعشیں نہ ملنے پر بے چین اور مضطرب ہیں جنہوں نے سرکاری عملہ کی سست رفتاری پر غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT