Wednesday , June 20 2018
Home / سیاسیات / مہاراشٹرا کانگریس میں ناراضگیوں سے شیوسینا لطف اندوز

مہاراشٹرا کانگریس میں ناراضگیوں سے شیوسینا لطف اندوز

ممبئی 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اشوک چوہان اور سنجے نروپم کو مہاراشٹرا اور ممبئی کا علی الترتیب صدر بنانے پر کانگریس کے اندر پیدا ہونے والی ناراضگیوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے شیوسینا نے تنقیدی طور پر کہاکہ ان تقررات کے خلاف پارٹی کے اندر ناراضگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کانگریس میں کوئی استحکام نہیں ہے۔ پارٹی کے اُصولوں کے مغائر ہے۔ پیر ک

ممبئی 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اشوک چوہان اور سنجے نروپم کو مہاراشٹرا اور ممبئی کا علی الترتیب صدر بنانے پر کانگریس کے اندر پیدا ہونے والی ناراضگیوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے شیوسینا نے تنقیدی طور پر کہاکہ ان تقررات کے خلاف پارٹی کے اندر ناراضگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کانگریس میں کوئی استحکام نہیں ہے۔ پارٹی کے اُصولوں کے مغائر ہے۔ پیر کے دن اے آئی سی سی کی جانب سے نئے بی سی سی سربراہوں کے تقرر کے فوری بعد کانگریس کے سینئر لیڈر نارائن رانے نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ پارٹی ہائی کمان نے ان تقررات کے تعلق سے ریاستی قائدین سے کوئی مشاورت نہیں کی ہے۔ سنجے نروپم کو لوک سبھا انتخابات میں بدترین شکست کے باعث ناراضگی کا سامنا ہے۔ انھیں سٹی کانگریس یونٹ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ دوسری جانب نارائن رانے کو جنھیں کونکن خطہ میں بدترین ناکامی ہوئی ہے۔ پارٹی کا کوئی نہیں دیا گیا۔

آخر اشوک چوہان اور سنجے نروپم کا ریاست کے اہم عہدوں پر تقرر کرنے میں کیا عجلت تھی۔ ان کی ریاست کی سیاست میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ان تقررات کے خلاف پارٹی کے اندر ناراضگیاں بھی کانگریس کی سیاسی تہذیب کے مطابق نہیں ہے۔ شیوسینا کے ترجمان سامنا میں ایڈیٹوریل لکھتے ہوئے سنہا نے کہا ہے کہ کانگریس اپنے قائدین کو خوش کرنے کے بجائے ناراض کررہی ہے۔ آدرش ہاؤزنگ اسکام کے باعث ہی اشوک چوہان کو چیف منسٹر کی حیثیت سے استعفیٰ دینا پڑا تھا لیکن اب انھیں کانگریس کا اہم عہدہ دیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس صرف بدعنوان قائدین کا ساتھ دے رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT