Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / مہاراشٹرا کے کئی اضلاع میں دودھ کی سربراہی روک دی گئی

مہاراشٹرا کے کئی اضلاع میں دودھ کی سربراہی روک دی گئی

قیمت خرید میں اضافہ کیلئے فارمرس کا مطالبہ، بات چیت کیلئے حکومت کے دروازے کھلے ہیں : چیف منسٹر

ممبئی ؍ ناگپور 16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا کے کئی اضلاع میں آج دودھ کی قیمت خرید میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجیوں کی جانب سے دودھ کے ٹینکرس کو روک دیا گیا۔ اس طرح دودھ کی سربراہی روک دی گئی جبکہ چیف منسٹر دیویندر فڈنویس نے اس احتجاج پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ احتجاجیوں نے ان کے اس احتجاج کے سلسلہ میں مختلف مقامات پر دودھ کے ٹینکرس کو روک دیا اور انھیں سڑکوں پر خالی کیا۔ اس احتجاج کا اثر پڑوسی پال گھر ڈسٹرکٹ میں وسائی اور ویرار ٹاؤنس میں امول ڈیری کے کلکشن سنٹرس پر بھی محسوس کیا گیا۔ وہ بھی اس احتجاج کے باعث متاثر ہوئے کیوں کہ اس بڑے کوآپریٹیو ادارہ نے آج فارمرس سے دودھ حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ امول ممبئی میں دودھ سربراہ کرنے والا واحد واحد بڑا سپلائر ہے۔ ریاستی حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ اگر امول کے دودھ کی سربراہی متاثر ہو تو پھر صارفین اس کا اثر ضرور محسوس کریں گے۔ ممبئی میں ہر روز 55 لاکھ مارک پاوچس فروخت کئے جاتے ہیں اور گجرات کی اس فرم کا مارکٹ میں 30 فیصد حصہ ہے جو بہت زیادہ ہے۔ اس کے بعد کولہاپور کی گوکل کا نمبر ہے۔ ڈیری ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ فارمرس کی تنظیمیں دودھ کی قیمت خرید میں فی لیٹر 5 روپئے کا اضافہ کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں اور آج سے ممبئی اور پونے میں دودھ کی سربراہی روک دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوابھیمانی شیتکری سنگھٹنا کے صدر راجو شیٹی نے جو احتجاج کی قیادت کررہے ہیں، کہاکہ وہ یہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کیوں کہ ریاستی حکومت ان کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ ’’ہم دودھ کو ضائع کرکے خوش نہیں ہیں لیکن حکومت ڈیریز کا تحفظ کررہی ہے اور فارمرس کی مشکلات کو ملحوظ نہیں رکھ رہی ہے اور اس پر غور نہیں کررہی ہے‘‘۔ شیٹی نے کہاکہ ’’ہم نے مجبوراً احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ حکومت کو قائل کرنے کے دوسرے طریقے ناکام ہوگئے ہیں‘‘۔ کولہاپور کے رکن لوک سبھا نے انتباہ دیا کہ اگر ریاستی حکومت مطالبات پورا نہ کرے تو اس احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی۔ مختلف فارمرس آرگنائزیشنس کے ممبرس نے آج یہ دیکھنے کے بعد ان کے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا کہ ان کی مخالفت کے باوجود کئی ڈیریز بڑے شہروں جیسے ممبئی اور پونے میں دودھ سربراہ کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ فارمرس کے آرگنائزیشنس کی جانب سے مغربی مہاراشٹرا کے مختلف اضلاع میں دودھ کے ٹینکرس کو روک دیا گیا اور انھیں سڑکوں پر خالی کیا گیا۔ فارمرس نے دودھ کی قیمت خرید میں 5 روپئے فی لیٹر اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس پر ریاستی حکومت اور ڈیریز نے بھی اعتراض کیا ہے۔ مغربی مہاراشٹرا میں اضلاع کولہاپور ، سانگلی، ستارا اور پونے میں جو اِس احتجاج کا مرکز ہے، دودھ کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے اور اسے ممبئی اور دوسرے بڑے شہروں کو سربراہ کیا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT