Sunday , December 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / مہر و جہیز

مہر و جہیز

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر نے عامرہ سے عقد کیا جس کو تقریباً پانچ سال کا عرصہ ہوتا ہے پھر اس نے اپنی بیوی کو طلاقِ مغلظہ دیدیا ۔ سامان جہیز اور مہر مؤجل مبلغ گیارہ سو پچیس روپیہ دو دینار شرعی شوہر کے ذمہ ہے ۔
ایسی صورت میں عامرہ یہ پانے کی مستحق ہے یا کیا ؟
جواب : بشرطِ صحتِ سوال صورتِ مسئول عنہا میں بوقت عقد عامرہ کو اس کے والدین نے جو سامان جہیز دیا وہ عامرہ کی ملکیت ہے اس پر شوہر (بکر) کا کوئی حق نہیں۔ نیز طلاق کی وجہ مہر مؤجل ، معجل ہوگیا یعنی عامرہ فی الفور مہر پانے کی مستحق ہے اور اس کی ادائی شوہر پر واجب ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ۳۱۸ میں ہے: وبالطلاق الرجعی یتعجل المؤجل ولو راجعھا لا یتأجل ۔
دینار شرعی اور دیگر کا شرعی حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عمر نے اپنی بیوی کو چند نافرمانیوں کی وجہ سے طلاق دیدی ۔ عدت کیا ہوگی اور مہر میں دودینار شرعی مقرر ہوئے تھے شرعاً اس کی قیمت کیا ہوگی ؟
جواب : بشرطِ صحتِ سوال صورتِ مسئول عنہا میں عمر کی زوجہ پر تاریخ طلاق سے تین حیض (اگر ہو حاملہ نہ ہو تو ) عدت گزارنا واجب ہے ۔ اور ایام عدت کا نفقہ شوہرپر واجب ہے ۔ اذا طلق الرجل امرأتہ طلاقاً بائناً أو رجعیاً أو ثلاثاً أو وقعت الفرقۃ بینھما بغیر طلاق وھی حرۃ ممن تحیض فعدتھا ثلاثۃ أقراء عالمگیری جلد اول باب العدۃ ص ۵۲۶ اور کتاب النفقۃ ص ۵۵۷ میں ہے المعتدۃ عن الطلاق تستحق النفقۃ والسکنیٰ کان الطلاق رجعیاً أوبائناً أو ثلاثاً حاملاً کانت المرأۃ أو لم تکن کذا فی فتاویٰ قاضی خان ۔ایک دینار شرعی کی مقدار ایک مثقال سونا ہے ۔ ایک مثقال مساوی ہے ۲۰ قیراط کے اور ایک قیراط پانچ جَو کے برابر ہوتا ہے اس لحاظ سے ایک دینار شرعی سو(۱۰۰) جَو سونے کے ہموزن ہوتا ہے والمثقال عشرون قیراطا والدرھم أربعۃ عشر قیراطا والقیراط خمس شعیرات ۔ شرح وقایہ جلد اول مطبوعہ انوار احمدی ص ۲۸۵ ۔ رتی ،ماسہ، تولہ اوزان کے اعتبار سے ایک سو جَو تین ماسے ایک رتی کے برابر ہوتاہے ۔ پس بوقت ادائی مہر دو دینار شرعی کے عوض چھ ماسے دورتی سونا یا بازار میں جو قیمت ہو وہ ادا کی جائے ۔
طلاق کنائی
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو انکے شوہر نے ایک خط لکھا جس میں تحریر ہے کہ ’’ اب سے تمہارے اورمیرے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے تم میری بیوی نہیں ہو ، میں تمہارا شوہر نہیں ہوں… تیرے اور میرے درمیان اب کوئی رشتہ ہی نہیں ہے ، بھول جا ۔ جلدی میں طلاق دینے کی کوشش کرتا ہوں ، میری بیوی کی طرح اگر رہنا ہے تو میں جیسا بولتاہوں ویسا کرو ‘‘ آیا ان الفاظ سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟
جواب : بشرطِ صحتِ سوال صورتِ مسئول عنہا میں شوہر نے تحریر مذکور الصدر میںجو الفاظ لکھے ہیں وہ کنائی ہیں ۔ اگر ان سے شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہو تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں عالمگیری جلد اول ص ۳۷۵ میں ہے ولو قال ماأنتِ لی بامرأۃ أو لستُ لکِ بزوج ونوی الطلاق یقع … ولو قال لھا لا نکاح بینی وبینکِ أو قال لم یبق بینی وبینکِ نکاح یقع الطلاق اذا نوی اور ص ۳۷۶ میں ہے ولو قال لم یبق بینی وبینکِ شیٔ ونوی بہ الطلاق لا یقع۔ پس شوہر سے اس کی نیت دریافت کی جاے ، اگر اس کی نیت طلاق کی تھی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ تعلقات زوجیت علیٰ حالہ قائم رہیں گے ۔ فقط واﷲ تعالی أعلم

TOPPOPULARRECENT