Sunday , December 17 2017
Home / آپ کے سوال / مہر کی ادائیگی سے قبل بیوی کا انتقال

مہر کی ادائیگی سے قبل بیوی کا انتقال

سوال : اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا مہر ادھار رکھا تھا۔ ادا کرنے سے پہلے اس کی بیوی کی موت واقع ہوئی تو کیا مہر معاف ہوجائے گا یا ادا کرنا ہو تو کون کس طرح کرنا ہوگا ؟
م۔ا۔ت ، نارائن پیٹ
جواب : مہر کی رقم بیوی کا حق ہے جب تک ادا نہ کرے یا بیوی خوشدلی سے معاف نہ کرے واجب الادا رہتا ہے۔ بوقت نکاح اگر مہر مؤجل مقرر کیا تھا تو دونوں میں سے کسی ایک کی موت سے قطعی واجب الادا ہوجاتا ہے ۔ درمختار میں ہے ۔ ویتأ کدا عند وطئی او خلوۃ صحت اور موت احدھما۔ مہر کی رقم مرحومہ کے ترکہ میں شامل ہوگی اور اس ترکہ کو ازروئے شرع تقسیم کردیا جائے گا جس میں شوہر بھی اپنا مقررہ حصہ پائے گا۔

لڑکیوں کو بالکلیہ محروم کرنا گناہ ہے
سوال : میرے والد محترم کو 5 لڑکے اور 3 لڑکیاں ہیں اور میری والدہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ میرے والد محترم کے 2 عدد مکانات ، 1 عدد دوکان ہے، ایک سال قبل میرے والد نے 2 مکانات میرے 5 بھائیوں میں قرعہ اندازی کے ذریعہ تقسیم کرچکے ہم تین بہنوں میں کوئی رقم تقسیم نہیں کئے اور نہ ہی رقم دینے کا وعدہ کیا اور اب حال ہی میں والد صاحب اور ہمارے بھائیوں نے مل کر قدیم دوکان کثیر رقم کے عوض دوسروں کو دینے کا معاہدہ طئے کر کے بطور اڈوانسڈ کچھ رقم لے چکے ہیں۔ اور ہم نے والد صاحب اور بھائیوں کی زبانی یہ کہتے ہوئے سنا کہ دوکان میں سے کوئی رقم بہنوں کو نہیں ملے گی۔
مہربانی فرماکر قرآن اور حدیث کی رو شنی میں فتویٰ دیں کہ ہم تین بہنوں کو دو مکانات اور ایک دوکان میں سے بطور شرعی حساب کتنا حصہ ملے گا یا صرف مکانات سے یا مکانات اور دوکان سے دونوں میں حصہ ملے گا تو کتنا حصہ ملے گا ؟
فرحانہ بیگم، منگل ہاٹ
جواب : صاحب جائیداد کا اپنی زندگی میں جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا درحقیقت ہبہ ہے۔ وہ حسب مرضی تمام اولاد میں سب کو برابر برابر یا کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دے سکتا ہے۔ بشرطیکہ کسی کو نقصان پہنچانے کا قصد نہ ہو ورنہ بلا لحاظ ذکور و اناث سب کو برابر برابر دینے کا حکم ہے ۔ اولاد میں بعض کو دیکر بعض کو بالکلیہ محروم کردینا گناہ ہے۔
در مختار برحاشیہ ردالمحتار جلد 4 کتاب الھبتہ میں ہے : وفی الخانیۃ لابأس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبۃ لانھا عمل القلب و کذا فی العطایا ان لم یقصدبہ الاضرار وان قصدہ یسوی بینھم یعطی البنت کلابن عندالثانی و علیہ الفتوی ولو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم۔ لہذا مذکور السئوال صورت میں صاحب جائیداد کا اپنے مکانات اور دوکان نرینہ اولاد میں تقسیم کرنا اور لڑکیوں کو مال و متاع جائیداد سے بالکلیہ محروم کرنا شرعاً گناہ ہے۔ لڑکیوں کو کچھ نہ کچھ ضرور دینا چاہئے ۔

طواف کے چکر بھول جانا
سوال : میں طواف کے بارے میں جاننا چاہتاہوں۔ اگر کوئی بھول جائے کہ اس نے کتنے چکر کئے ہیں تو وہ کیا کرے۔ جس طرح عموماً نماز میں رکعات کی تعداد بھول جاتے ہیں ۔ میں تقریباً ہر سال عمرہ کیلئے جاتا ہوں اور میں نے چار مرتبہ حج بھی کیا ہے اور عموماً مجھ کو اس طرح کا شبہ ہوجاتا ہے کہ میں نے طواف کے چکر کتنے کئے ہیں۔ ایسی صورت میں ازروئے شرع کیا حکم ہے ؟
لئیق پاشاہ، ٹولی چوکی
جواب : دوران طواف آپ کو شک ہوجائے کہ آپ نے کتنے چکر کئے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ آپ اپنے ظن غالب کے مطابق عمل کریں اور اگر گمان غالب کسی ایک طرف نہ ہو تو کمی کی جانب کو اختیار کریں۔ مثلاً یہ شک ہو کہ دوسری چکر ہے یا تیسری چکر ہے تو دوسری چکر مقرر کرلیں‘ اگر پانچویں چھٹویں چکر میں شک ہو تو پانچویں مقرر کرلیں اور نماز میں بھی کسی کو شک و شبہ کی عادت ہو تو اسی طرح گمان غالب کے مطابق عمل کرنے کا حکم ہے اور اگر گمان غالب کسی ایک جانب نہ ہو تو کمی کی جانب کو اختیار کرنا ہے۔

تعزیت کرنانیکی ہے
سوال : کسی کا انتقال ہوجائے تو لوگ ان کے پاس جاکر پرسہ دیتے ہیں، ان سے ملتے ہیں ، معانقہ کرتے ہیں ، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شریعت میں پرسہ دینے کا طریقہ کیا ہے ۔ لوگ جس طرح گلے ملتے ہیں اس طرح پرسہ کے وقت ملنا ضروری ہے یا نہیں ؟
عارف الدین قادری، کنگ کوٹھی
جواب : تعزیت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میت کے قریبی رشتہ داروں کو جو تکلیف میں ہوتے ہیں صبر کی تلقین کرنا تسلی دینا اور دلاسہ دینا اور یہ شرعاً مستحب ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : من عزی أخاہ بمصیبۃ کساہ اللہ من حلل الکرامۃ یوم القیامۃ ۔ ترجمہ : جو شخص اپنے بھائی کو کسی مصیبت میں دلاسہ دے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن عزت و کرامت کے لباس سے سرفراز فرمائے گا۔تعزیت میں دو چیزیں ملحوظ ہوتی ہیں، مرحوم کے رشتہ داروں کو صبر کی تلقید کرنا ‘ دلاسے دینا اور دوسرا مرحوم کی مغفرت کے لئے دعائیں کرنا : یہی تعزیت ہے۔ معانقہ ضروری نہیں، تاہم تعزیت کے وقت مصافحہ کرنا در حقیقت ان سے ہمدردی کا اظہار کرنا ہوتا ہے ۔ اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ ردالمحتار جلد 2 صفحہ : 260 مطبعہ دارالفکر بیروت میں ہے : والتعزیۃ ان یقول : اعظم اللہ اجرک ‘ وأحسن عزاء ک و غفرلمیتک۔

صبح دیر گئے تک سونا
سوال : مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ مسلم نوجوان کاہل و سست ہوگئے ہیں، وہ رات دیر گئے دوست و احباب کے ساتھ گفتگو کرتے رہتے ہیں، دیر سے سوتے ہیں، نتیجے میں دیر سے اٹھتے ہیں، کئی نوجوان لڑکے تعلیم یافتہ ہیں، کمانے کے قابل ہیں لیکن وہ سستی و عفلت میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں ، کماتے دھماتے نہیں، دکان عموماً دیر سے کھولتے ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رہنمایانہ ارشادات سے رہبری فرمائیں۔
محمد فردوس، بازار گھاٹ
جواب : صبح سویرے جلد اٹھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا اور صبح خیزی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو پسند ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح سویرے اٹھنے والوں کے حق میں دعاء خیر فرمائی ہے۔ ’’ اے اللہ ! میری امت کو صبح کے اٹھنے میں برکت دے ‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ رزق کی تقسیم صبح سویرے ہوتی ہے۔ حضرت صخر ایک تجارت پیشہ صحابی تھے ، وہ ہمیشہ اپنا سامان تجارت صبح سویرے روانہ کرتے اور فرماتے ہیں کہ اس کی برکت سے مال کی اتنی کثرت ہے کہ رکھنے کو جگہ نہیں ملتی۔ (ابو داود، 3 ، 8 ، کتاب الجہاد 26-6 ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات صبح سویرے ہی لشکر روانہ فرماتے اور سفر بھی و دیگر اہم کاموں کو رات کے آخری حصے میں انجام دینے کی ترغیب فرماتے۔
لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ فجر کی نماز کے ساتھ ہی اپنے کام و کاج کاروبار و تجارت و دیگر اہم امور کی انجام دہی میں مشغول ہوجائیں۔ رات میں زیادہ دیر تک بلا وجہ جاگنا پسندیدہ نہیں ہے، اس سے فجر کی نماز جو کہ فرض ہے چھوٹ جانے کا ندیشہ رہتا ہے اور رزق کی تقسیم کے وقت وہ خواب غفلت میں رہتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات میں جلد سونے اور صبح جلد اٹھنے کی ترغیب دی ہے اور بعد نماز عشاء باہمی گفتگو و قصہ گوئی سے منع فرمایا ۔ پس فجر کی نماز ترک کرنا اور صبح دیر گئے تک سونا منحوسی ہے۔

عذر کی بناء طلاق
سوال : اگر کسی نے اپنی بیوی کو شرعی یا طبی عذر کی بناء ایک ہی وقت میں طلاق سہ بارہ دی ہے تو کیا ایسی صورت میں اس شحص کو کفارہ دینا ہوگا ۔ ا گر دینا ہے تو اس کا کفارہ کیا ہے ؟ برائے کرم جواب سے مطلع کریں تو ہم لوگوں کی بڑی فکر اور الجھن دور ہوگی ۔ اللہ پاک اجر عظیم عطا کرے گا۔
احمد بن اقبال، نیو ملے پلی
جواب : ایک ہی وقت میں دی گئی تین طلاق واقع ہوجاتی ہے اور اس سے میاں بیوی کے درمیان تعلق زوجیت ختم ہوجاتا ہے ۔ عالمگیری جلد 1 کتاب الطلاق میں ہے ۔ ان یطلقھا ثلاتاً فی طھر واحد فی کلمۃ واحدۃ أو کلمات متفرقۃ… فاذ افعل ذلک وقع الطلاق و کان عاصیا۔ صورت مسئول عنھا میں بیوی پر تین طلاق واقع ہوکر شوہر سے تعلق زوجیت بالکلیہ منقطع ہوگیا ۔ بیک وقت تین طلاق دینے کی بناء شوہر گناہ گار ہوا۔ شوہر کو توبہ کرنا چاہئے ، اس کیلئے کوئی کفارہ نہیں۔

عید کی نماز مساجد میں
سوال : ہمارے یہاں عالم صاحب نے عید الفطر کے موقع پر عیدگاہ میں اعلان کیا کہ (عید کی نماز) عیدگاہ میں ادا کرنا ضروری ہے جو لوگ مساجد میں عید کی نماز کرتے ہیں، ان کی نماز عید ادا نہیں ہوتی ؟ جبکہ شہروں میں سینکڑوں مساجد میں لاکھوں لوگ نماز عید ادا کرتے ہیں ۔ کیا ان کی نماز ادا نہیں ہوتی؟ یہاں مسلمانوں کی کثیر تعداد آباد ہے۔ عیدین کی نماز عیدگاہ کے علاوہ کئی مساجد میں بھی ادا کی جاتی ہے ۔ تو عالم صاحب کا اعلان شرعی نقطہ نظر سے کہاں تک درست ہے ؟ اس سلسلہ میں شرعی احکام کیا ہے ؟
محمد مظفر احمد ، کوہیر دکن
جواب : نماز عید کا عیدگاہ یعنی کھلے میدان میں ادا کرنا مستحب ہے اور بعض ائمہ کے اپس سنت ہے اور بغیر کسی عذر کے مسجد میں ادا کی جائے تو مکروہ ہے۔ تودی صلوٰۃ العید بالصحرا، ویکرہ فعلھا فی المسجد من غیر عذر (الفقہ علی المذاہب ان ربعہ، کتاب الصلوٰۃ کیفیۃ صلوٰۃ العیدین ، ص : 200 )، صورت مسئول عنھا میں اگر آپ کے ہاں عیدگاہ میں کشادہ جگہ باقی ہو اور عیدگاہ آبادی کے قریب ہو تو عیدگاہ ہی میں نماز ادا کرنا بہتر ہے ۔ تاہم اگر کسی عذر کی بناء یعنی جگہ کی تنگی یا آبادی کے دور ہو تو بلا کراہت مساجد میں عید کی نماز ادا کرنا درست ہے۔

نفل نماز بیٹھ کر ادا کرنا
سوال : بعض حضرات نفل نماز بیٹھ کر ادا کرتے ہیں۔ ضعیف حضرات کے علاوہ بھی بعض کم عمر لوگ بھی بیٹھ کر نفل پڑھتے ہیں، آیا یہ عمل درست ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ کیا ہے ۔ بتلائیں تو عین نوازش ہوگی۔
عبدالمقیط فلاحی، شاہین نگر
جواب : فقہا کرام نے نفل نماز بیٹھ کر ادا کرنے کی اجازت دی ہے۔ درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الوتر والنوافل میں ہے ۔ و یتنفل مع قدرتہ علی القیام قاعدأ ۔ یعنی اگر کوئی بلا عذر بھی بیٹھ کر نفل نماز ادا کرتا ہے تو وہ ادا کرسکتا ہے لیکن کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کا جو ثواب ہے اس کا نصف ثواب اسے ملے گا اور نفل نماز ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مصلی دو زانوں تشہد میں بیٹھنے کی طرح بیٹھے۔ ویقعد فی کل نفلہ کما فی التشھد علی المختار (حوالہ سابقہ)

TOPPOPULARRECENT