Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / مہلوکین کو ’ دہشت گرد ‘ قرار دینے کے بعد تحقیقات کا حکم بے معنی

مہلوکین کو ’ دہشت گرد ‘ قرار دینے کے بعد تحقیقات کا حکم بے معنی

ایس آئی ٹی کے قیام کے لیے حکومت کا جی او مجہول ، انصاف کی توقع نہیں

ایس آئی ٹی کے قیام کے لیے حکومت کا جی او مجہول ، انصاف کی توقع نہیں
حیدرآباد۔ 14 اپریل (سیاست نیوز) حکومت جب فیصلہ کرچکی ہے کہ مہلوکین ’’دہشت گرد‘‘ تھے تو پھر تحقیقات کا کوئی مطلب ہی باقی نہیں رہا۔ حکومت ِتلنگانہ کی جانب سے جاری کردہ جی او ایم ایس مورخہ 13 اپریل 2015ء میں دیئے گئے احکامات دوسری ہی سطر میں ’’آلیر انکاؤنٹر‘‘ میں جان گنوانے والے وقار احمد، سید امجد، محمد ذاکر، محمد حنیف اور اظہار خان کو محکمہ لا اینڈ آرڈر نے ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے دیا ہے۔ جب حکومت ہی ایس آئی ٹی کی تشکیل کیلئے جاری کردہ احکامات میں ان مہلوک نوجوانوں کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے دیا تو پھر ان نوجوانوں کی موت کے متعلق تحقیقات کیلئے تشکیل کردہ کمیٹی کا ذہن کیا ہوگا۔ اس کا اندازہ بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے جن نوجوانوں کو اب تک ’’دہشت گرد‘‘ قرار نہیں دیا ہے، انہیں پولیس اور حکومت دہشت گرد قرار دے رہی ہے۔ ریاست میں 7 اپریل کو ہوئے انکاؤنٹر کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا متعدد گوشوں سے مطالبہ شدت پکڑتا جارہا ہے اور ان حالات میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او میں ان مہلوک نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دیئے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے بھی ذہن بنا لیا ہے کہ مذکورہ نوجوانوں کے افرادِ خاندانوں کو انصاف ملے یا نہ ملے لیکن انکاؤنٹر میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی جبکہ بعض مسلم تنظیموں کی جانب سے مہلوک نوجوانوں کے افرادِ خاندانوں کو ایکس گریشیا کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے جانے کے بعد یہ مطالبہ بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔ بعض تنظیموں کے قائدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایس آئی ٹی کی تشکیل کیلئے جاری کردہ سرکاری احکامات میں نوجوانوں کو دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث قرار دیتے ہوئے تحقیقات کی رپورٹ کا نتیجہ پیش کردیا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے ایس آئی ٹی کے ذریعہ واقعہ کی تحقیقات کے اعلان کو مختلف تنظیموں بشمول مشترکہ مجلس عمل کی جانب سے مسترد کرنے کا اعلان کیا جاچکا ہے لیکن اس شدت کے ساتھ مخالفت کے باوجود محکمہ لا اینڈ آرڈر کی جانب سے جاری کردہ جی او میں نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دیا جانا مظلوموں کو اکسانے کے مترادف ہے۔ سرکاری سطح پر ہی جب اس ذہن کو پیش کیا جانے لگے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تحقیقاتی مشنری کا ذہن بھی ان ہی خطوط پر کام کرے گا جو سرکاری طور پر مبہم انداز میں ظاہر کردیئے گئے ہیں۔ نوجوان بے قصور تھے یا نہیں اس بات کا فیصلہ عدالت میں زیردوراں تھا، لیکن پولیس کی جانب سے انہیں عدالتی تحویل میں فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کیا جانا غیرانسانی کارروائی ہونے کے علاوہ انہیں انصاف سے محروم کردینے کی مذموم کوشش قرار دی جارہا ہے۔ ایسے میں حکومت کو پولیس عہدیداروں کی سرپرستی کے بجائے مظلوموں سے انصاف کو یقینی بنانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT